دہشتگردی پر کوئی نرمی نہیں، ریاستی رِٹ ہر صورت قائم کی جائے گی، خواجہ آصف
اسلام آباد: وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گرد عناصر کے ساتھ بات چیت کا دروازہ بند ہو چکا ہے اور ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث گروہوں کو ریاستی قوت کے ذریعے جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان سمیت ملک کے کسی حصے میں تشدد برداشت نہیں کیا جائے گا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں وزیر دفاع نے کہا کہ دہشت گردوں کی جانب سے مزدوروں اور عام شہریوں کو نشانہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا کسی سیاسی یا نظریاتی جدوجہد سے کوئی تعلق نہیں۔
انہوں نے جعفر ایکسپریس واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بے گناہ افراد کا قتل کسی بھی نام نہاد بیانیے کا حصہ نہیں ہو سکتا۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے کے پیچھے جرائم پیشہ نیٹ ورکس اور اسمگلرز کارفرما ہیں۔ جیسے ہی ریاست نے اسمگلنگ اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائیاں تیز کیں، ان عناصر نے بدامنی پھیلانے کی کوشش شروع کر دی۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں بلوچ سیاسی قیادت کے ساتھ مذاکرات کیے جاتے رہے ہیں، تاہم موجودہ شدت پسند گروہوں کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔
وزیر دفاع نے انکشاف کیا کہ دہشت گردوں کے پاس جدید اور مہنگا غیر ملکی اسلحہ موجود ہے، جس کی فراہمی کے ذرائع پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں سرگرم شدت پسندوں کو بیرونی پشت پناہی حاصل ہے، بھارت کی معاونت سے چلنے والی پراکسیز صوبے میں بدامنی کو ہوا دے رہی ہیں جبکہ ان گروہوں کی قیادت افغانستان میں بیٹھ کر کارروائیاں منظم کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تیل کی اسمگلنگ کے خلاف اقدامات کے بعد ایک منافع بخش غیر قانونی کاروبار بند ہوا جس سے وابستہ عناصر روزانہ اربوں روپے کماتے تھے۔
اسی مالی نقصان کو پورا کرنے کے لیے دہشت گرد حملوں کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ ایسے عناصر کے ساتھ کسی قسم کی رعایت یا مذاکرات ممکن نہیں۔
وفاقی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں سکیورٹی کے چیلنجز فطری طور پر زیادہ ہیں، اس کے باوجود ریاست نے ترقیاتی شعبے میں نمایاں اقدامات کیے ہیں۔
سڑکوں کا جال، تعلیمی اداروں کا قیام، اسپتالوں اور ایئرپورٹس کی تعمیر اس بات کا ثبوت ہے کہ بلوچستان کو نظرانداز نہیں کیا گیا۔
آخر میں خواجہ آصف نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی ایک ادارے کی نہیں بلکہ پوری قوم کی ذمہ داری ہے، وقت آ گیا ہے کہ سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر ریاست اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑا ہوا جائے تاکہ ملک میں پائیدار امن قائم کیا جا سکے۔
