اسلام آباد، ترلائی کی امام بارگاہ میں خودکش دھماکا، 32 نمازی شہید، 169 زخمی
وفاقی دارالحکومت ایک ہولناک سانحے سے لرز اٹھا جب ترلائی کے علاقے میں واقع امام بارگاہ و مسجد خدیجتہ الکبریٰ میں جمعہ کی نماز کے دوران خودکش دھماکا ہوگیا۔
دھماکے کے نتیجے میں 32 افراد شہید جبکہ 160 سے زائد زخمی ہو گئے، جن میں متعدد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق خودکش حملہ آور نے مسجد میں داخل ہونے کی کوشش کی تاہم سکیورٹی پر مامور اہلکاروں کی جانب سے روکے جانے پر اس نے مرکزی دروازے کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکا دوسری رکعت میں سجدے کے دوران ہوا، جس سے عبادت میں مصروف نمازی یکدم دھماکے کی زد میں آ گئے۔ دھماکے سے قبل فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں اور سکیورٹی اہلکاروں سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
دھماکے کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی اور اطراف کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس، ریسکیو ٹیمیں اور بم ڈسپوزل اسکواڈ موقع پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے 31 شہادتوں اور 160 سے زائد زخمیوں کی تصدیق کی ہے۔ زخمیوں کو پمز، پولی کلینک، فیڈرل جنرل اور بے نظیر اسپتال منتقل کیا گیا۔ پمز اسپتال میں گنجائش مکمل ہونے کے بعد زخمیوں کو راولپنڈی اور اسلام آباد کے دیگر طبی مراکز منتقل کیا جا رہا ہے۔
آئی جی اسلام آباد نے بھی سانحے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے کزن کا بیٹا بھی اس افسوسناک واقعے میں شہید ہوا، جو نماز کی ادائیگی کے لیے تین منزلہ عمارت میں موجود تھا۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعظم نے وزیرداخلہ محسن نقوی کو فوری تحقیقات اور ذمہ داران کے تعین کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بدامنی پھیلانے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے اور علاج معالجے کی خود نگرانی کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔
واقعے کے بعد وفاقی دارالحکومت کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جبکہ سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ شہر کی فضا سوگوار ہے اور ہر آنکھ اشکبار دکھائی دے رہی ہے۔
