ایک نازک دنیا میں ادب امید کی کرن ہے، وزیراعلیٰ سندھ
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے 17ویں کراچی لٹریچر فیسٹیول (کے ایل ایف) کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی غیر یقینی حالات میں ادب استحکام، انسانیت اور مکالمے کا سب سے مضبوط ذریعہ ہے۔
انہوں نے اسلام آباد میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لیے مغفرت اور ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کی دعا بھی کی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی لٹریچر فیسٹیول گزشتہ 17 برس سے کامیابی سے جاری ہے اور ہر سال یہ ثابت کرتا ہے کہ ادب کسی بھی سماج کی تشکیل میں ناگزیر کردار ادا کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ادب کے ذریعے ہی تاریخ، زبان اور تہذیب کی گہرائیوں تک رسائی ممکن ہوتی ہے۔
انہوں نے رواں برس کے ایل ایف کا عنوان ایک نازک دنیا میں ادب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے دور میں جب دنیا مختلف چیلنجز سے دوچار ہے، ادب انسانوں کو جوڑنے، یادداشت محفوظ کرنے اور ہمدردی کو فروغ دینے کا ذریعہ بنتا ہے۔
ان کے مطابق ادب سرحدوں سے ماورا ہو کر انسانوں کے درمیان ربط پیدا کرتا ہے اور مکالمے کی نئی راہیں کھولتا ہے۔
سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کی دھرتی نے برداشت، محبت اور فکری رہنمائی کی عظیم آوازیں پیدا کیں، جن میں شاہ عبداللطیف بھٹائی، سچل سرمست، شیخ ایاز اور مرزا قلیچ بیگ جیسے نام شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی ادبی اقدار آج بھی دنیا کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ کراچی لٹریچر فیسٹیول نہ صرف شہر کے وقار میں اضافہ کرتا ہے بلکہ پاکستان کا مثبت اور تخلیقی تشخص دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔
یہ فیسٹیول مصنفین، طلبہ اور قارئین کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جہاں فکر اور مکالمے کی نئی چنگاریاں روشن ہوتی ہیں۔
انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارے نے سندھ میں تعلیمی پروگرام تشکیل دیا ہے اور سندھ حکومت اس پروگرام کے نفاذ کے لیے اشتراک کا ارادہ رکھتی ہے۔ وزیراعلیٰ نے اساتذہ کو جدید مہارتیں اور وسائل فراہم کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
اپنے خطاب کے اختتام پر سید مراد علی شاہ نے نوجوانوں کو مطالعے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ کتابوں کے ساتھ گزارا وقت کبھی ضائع نہیں جاتا۔
ان کا کہنا تھا کہ الفاظ طاقت رکھتے ہیں اور تحریریں لاکھوں افراد کی سوچ بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، اس لیے ادب اور تعلیم کے فروغ کے لیے مشترکہ کاوشیں جاری رہنی چاہئیں۔
