غلط منصوبہ بندی ہوئی، ذمہ داری میری ہے، مراد علی شاہ کا بڑا اعتراف
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایکسپو سینٹر کراچی میں منعقدہ تقریب میں شرکت کی جہاں کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی جانب سے انہیں گولڈ میڈل پیش کیا گیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے مائی کراچی نمائش کے کامیاب انعقاد پر چیمبر کو مبارکباد دی اور کہا کہ یہ ایونٹ اب شہر کے سالانہ کیلنڈر کا باقاعدہ حصہ بن چکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نمائش میں اسٹالز پر 40 فیصد تک ڈسکاؤنٹ دیا گیا جبکہ لاکھوں شہری اب تک شرکت کر چکے ہیں۔ دوست ممالک نے بھی اس پلیٹ فارم کے ذریعے اپنی مصنوعات پاکستانی مارکیٹ میں متعارف کروائیں، جو کراچی کی معاشی سرگرمیوں کا مثبت اشارہ ہے۔
مراد علی شاہ نے گل پلازہ سانحے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے نے سب کو رنجیدہ کیا ہے اور حکومت متاثرین کی مدد کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشکلات اور چیلنجز کے باوجود کراچی آگے بڑھ رہا ہے اور بڑے ایونٹس کا انعقاد اس کی زندہ دلی کا ثبوت ہے۔
ہڑتال کی حالیہ کال پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ پورے ملک میں عوام نے ہڑتال کی اپیل کو مسترد کر دیا اور بیشتر علاقوں میں کاروبار معمول کے مطابق جاری رہا۔ انہوں نے بعض سیاسی جماعتوں کو مشورہ دیا کہ وہ ماضی میں الجھنے کے بجائے مستقبل کی طرف دیکھیں۔
الیکشن سے متعلق تحفظات کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت ہمارے لیے اولین ترجیح ہے اور شکایات کے ازالے کے لیے آئینی و قانونی فورمز موجود ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے ہڑتال کے پیغامات پھیلائے گئے۔
کراچی کے فائر بریگیڈ نظام پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس وقت سسٹم مختلف محکموں میں تقسیم ہے جسے ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
چین نے فائر بریگیڈ سسٹم اپ گریڈ کرنے میں تعاون کی پیشکش کی ہے اور ایک چینی وفد اس حوالے سے دلچسپی ظاہر کر چکا ہے۔ مصروف عمارتوں میں آگ بجھانے کے آلات اور ایمرجنسی ایگزٹس کا جائزہ شروع کر دیا گیا ہے۔
کے فور منصوبے پر بات کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے غیر معمولی اعتراف کیا کہ منصوبہ بندی میں غلطیاں ہوئیں اور وہ اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ واٹر بورڈ صوبائی حکومت کے پاس نہ ہونے، بجلی کی طلب کا درست اندازہ نہ لگانے اور اگمینٹیشن پر کام نہ ہونے سے مسائل بڑھے۔ 75 ارب روپے کے منصوبے میں پاور اور اگمینٹیشن شامل کی گئی، تاہم ایک مرحلے پر منصوبہ تین سال تک رکا رہا۔
انہوں نے بتایا کہ اگمینٹیشن کے لیے ورلڈ بینک کے تعاون سے 80 ارب روپے کا انتظام کیا گیا ہے اور تین میں سے ایک حصے پر کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ پاور سیکشن پر پیش رفت جاری ہے۔ چند روز قبل ورلڈ بینک کے صدر سے ملاقات میں صرف پانی کے منصوبے پر تفصیلی بات چیت ہوئی اور طے پایا کہ اس منصوبے کی نگرانی ذاتی طور پر کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ موجودہ حالات میں ہر ادارے کو مضبوط کرنا ہوگا اور کراچی کو درپیش مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
