وزیر اعظم نے سولر انرجی کے نئے قواعد پر فوری نظر ثانی کا حکم دے دیا
ملک میں سولر انرجی سے متعلق نئے قواعد سامنے آتے ہی وزیراعظم شہباز شریف متحرک ہوگئے اور نیپرا کے حالیہ ریگولیشنز پر فوری توجہ دیتے ہوئے اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کرلیا۔
وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے خصوصی اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزرا عطا تارڑ، اویس لغاری، پرویز ملک، بلال کیانی، محمد علی اور احد چیمہ سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں سولر صارفین، نیشنل گرڈ اور بجلی کے مجموعی نظام پر ممکنہ اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے پاور ڈویژن اور نیپرا کو ہدایت دی ہے کہ سولر صارفین کے موجودہ معاہدوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری نظرثانی اپیل دائر کی جائے اور کسی بھی صارف کے حقوق متاثر نہ ہوں۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ملک میں موجود 4 لاکھ 66 ہزار سولر صارفین سے متعلق کسی بھی پالیسی کا بوجھ 3 کروڑ 76 لاکھ عام گرڈ صارفین پر منتقل نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ توانائی کے شعبے میں توازن، شفافیت اور عوامی مفاد اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
وزیراعظم نے پاور ڈویژن کو ہدایت کی کہ تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد ایک جامع اور قابلِ عمل لائحہ عمل تیار کیا جائے تاکہ سولر پالیسی میں استحکام رہے اور بجلی صارفین کے مفادات محفوظ رہیں۔
حکومتی حلقوں کے مطابق آئندہ چند روز میں اس معاملے پر مزید پیش رفت متوقع ہے، جس کے بعد سولر پالیسی کے حوالے سے واضح حکمتِ عملی سامنے آسکتی ہے۔
