پارلیمنٹ ہاؤس دھرنا، پی ٹی آئی کے 7 اسمبلی ممبران دہشت گردی کیس میں گرفتار
وفاقی دارالحکومت میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر ہونے والا احتجاج اس وقت ڈرامائی رخ اختیار کرگیا جب پولیس نے پاکستان تحریک انصاف کے 7 اراکین اسمبلی کو دہشت گردی سمیت سنگین الزامات میں گرفتار کرلیا۔
پولیس حکام کے مطابق پارلیمنٹ لاجز کے سامنے ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں سے مبینہ تلخ کلامی، ہاتھا پائی اور مزاحمت کے بعد کارروائی عمل میں لائی گئی۔ حراست میں لیے گئے رہنماؤں میں ایم این اے شفقت اعوان، ایم این اے عمر اسلم، جبکہ صوبائی اسمبلی کے اراکین رفعت شاہ، سرفراز ڈوگر، ملک اسد اور طیب راشد شامل ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف دہشت گردی، اقدام قتل اور دیگر سنگین نوعیت کی مجموعی طور پر 11 دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مظاہرین نے نہ صرف ہنگامہ آرائی کی بلکہ پولیس پر فائرنگ، اسلحہ چھیننے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی کوشش بھی کی، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل تھانہ سنگ جانی کے ایس ایچ او کی مدعیت میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنے کے حوالے سے 7 اراکین اسمبلی اور 55 دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
دوسری جانب پولیس نے احتجاج کے دوران گرفتار کیے گئے چار افراد کو انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا، جہاں عدالت نے ان کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے مزید تفتیش کی اجازت دے دی۔
