تازہ ترین:
سیاست کمزور دلوں کا کھیل نہیں، برداشت ہی اصل قیادت ہے: صدر آصف زرداری
قومی خبریں

سیاست کمزور دلوں کا کھیل نہیں، برداشت ہی اصل قیادت ہے: صدر آصف زرداری

17 Feb 2026 8,500

صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ سیاست صبر، حوصلے اور برداشت کا امتحان ہے، جو اس کٹھن راستے پر چلنے کی ہمت نہیں رکھتا اسے کسی اور میدان کا انتخاب کر لینا چاہیے۔

عوامی اجتماع سے خطاب میں صدر مملکت کا کہنا تھا کہ ملک بتدریج استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے، اگرچہ مکمل بہتری کے لیے وقت درکار ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ قومی تعمیر کا عمل مرحلہ وار ہوتا ہے اور اس میں ریاستی اداروں اور عوام کا باہمی تعاون بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

سیاسی منظرنامے پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اشاروں کنایوں میں کہا کہ محض تقاریر کرنا آسان ہے لیکن عملی سیاست مشکلات سے نبرد آزما ہونے کا نام ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کے نشیب و فراز کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 14 برس قید میں گزارے اور جب رہائی کے بعد بچوں سے ملے تو وہ قد کاٹھ میں ان سے بڑے ہو چکے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ اقتدار میں رہتے ہوئے آوازیں بلند کرنا آسان ہوتا ہے، مگر حالات بدلنے پر حقیقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

صدر زرداری نے کہا کہ قیادت کے لیے برداشت، تدبر اور سیاسی بلوغت ناگزیر ہیں۔ حکمرانی محض اختیار کا نام نہیں بلکہ سنجیدہ فیصلوں اور دور اندیشی کا تقاضا کرتی ہے تاکہ ملک کو درپیش چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔

انہوں نے معیشت کے حوالے سے زرعی شعبے کو کلیدی اہمیت دیتے ہوئے کہا کہ کسان ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ جدید زرعی ٹیکنالوجی، پانی کے مؤثر استعمال اور کسانوں کو سہولتوں کی فراہمی کے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے معاشی مسائل کا دیرپا حل زراعت کی مضبوطی میں مضمر ہے۔

پانی کے وسائل کے بہتر انتظام پر زور دیتے ہوئے صدر نے کہا کہ ملک میں وسائل کی کمی نہیں، ضرورت مؤثر منصوبہ بندی اور تسلسل کی ہے۔ انہوں نے مختلف صوبوں کے سیاسی حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہر خطے کی اپنی نوعیت ہے، مگر قومی ترقی کے لیے تمام اکائیوں کو مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

صدر مملکت نے عدالتی اصلاحات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ججز کی تنخواہوں میں اضافہ عدالتی نظام کو مستحکم بنانے کی کوشش کا حصہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلیں موجودہ قیادت کو مثبت کردار کے طور پر یاد رکھیں۔

کشمیر کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے اسے پاکستان کی شہ رگ قرار دیا اور واضح کیا کہ اس پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں ہوگا۔ انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے علاقائی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک کو ایٹمی قوت بنانے کی بنیاد رکھی۔

اختتام پر صدر زرداری نے سیاسی ہم آہنگی کو انتہا پسندی کے تدارک کا مؤثر ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ قومی مفاد میں تمام سیاسی قوتوں کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا تاکہ پاکستان کو ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال ریاست بنایا جا سکے۔