غزہ میں امن کیلیے تیار ہیں، حماس کو غیر مسلح کرنے کے حق میں نہیں، پاکستان
پاکستان نے غزہ کی صورتحال پر واضح پالیسی دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خطے میں امن کے قیام کی کوششوں میں حصہ لے گا، تاہم کسی بھی گروہ کو غیر مسلح کرنے کے اقدامات میں شامل نہیں ہوگا۔
ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف امریکا کے دورے پر نیویارک میں موجود ہیں جہاں وہ غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں شرکت اور اہم عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔
ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے فلسطینی مندوب اور مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی سے ملاقات کی، جبکہ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود سے ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان امن عمل میں مثبت کردار ادا کرے گا اور امید ہے کہ مجوزہ امن فورم غزہ کے عوام کی مشکلات میں کمی کا باعث بنے گا، تاہم پاکستان کسی تنظیم کے خلاف کارروائی یا حماس کو غیر مسلح کرنے کے منصوبے کا حصہ نہیں بنے گا۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ وزیراعظم نے آسٹریا کے دورے کے دوران چانسلر کرسٹین سٹاکر سے ملاقات اور مشترکہ اعلامیہ جاری کیا، جبکہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے سربراہ رافیل ماریانو گروسی سے بھی اہم بات چیت ہوئی۔
دفتر خارجہ نے اسرائیل کے مغربی کنارے سے متعلق متنازع قانون کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک نے اس اقدام کو مسترد کیا ہے، جبکہ بھارتی شہری نکھیل گپتا کی گرفتاری کی رپورٹس اور پاکستان میں دہشت گرد گروہوں کی مبینہ بھارتی پشت پناہی کا معاملہ بھی زیرِ غور ہے۔
