میکسیکو، بدنام زمانہ ڈرگ ڈیلر ایل مینچو کی ہلاکت پر پرتشدد واقعات میں 55 افراد ہلاک
جالیسکو نیو جنریشن کارٹیل کے سربراہ نیمیشیو اوسگوئیرا سیروانتس المعروف “ایل مینچو” کی ہلاکت کے بعد ملک کے 16 ریاستوں میں شدید تشدد اور انتقامی حملوں کا سلسلہ شروع ہو گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 55 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 25 سیکورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔
میکسیکو کے سیکرٹری برائے سیکیورٹی اور سول پروٹیکشن، عمر گارسیا ہارفچ کے مطابق کارٹیل نے سیکورٹی فورسز پر حملے کیے، جس کے جواب میں حکام نے کارروائی کرتے ہوئے 30 کارٹیل کے ارکان کو ہلاک کر دیا۔
ہارفچ نے بتایا کہ ملک کے 11 ریاستوں میں 85 ہائی ویز پر روڈ بلاک کیے گئے تھے، تاہم حکومتی مداخلت کے بعد زیادہ تر راستے دوبارہ کھل گئے ہیں۔
غربی میکسیکو میں حالات کی کشیدگی کی وجہ سے سفر اور سیاحت متاثر ہوئی۔ گواڈالاجارا میں، جو 2026 کے فیفا ورلڈ کپ کے میزبان شہروں میں شامل ہے، 1,000 سیاح زو میں پھنس گئے، جنہیں بسوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا اور کھانا فراہم کیا گیا۔
علاوہ ازیں پورٹو ولیارٹا میں پروازیں منسوخ ہو گئیں اور بڑے عوامی پروگرام، بشمول امریکی گلوکارہ کالی یوچیس کا کنسرٹ، ملتوی کر دیا گیا۔
ایل مینچو کی لاش کو سخت سکیورٹی کے ساتھ میکسیکو سٹی کے فارنسک ادارے منتقل کیا گیا۔ میکسیکو کی اٹارنی جنرل آفس نے فورنسک اور ڈی این اے تجزیہ کے بعد اس کی شناخت کی تصدیق کی۔
ایل مینچو کو ماضی میں منشیات کی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے الزامات میں امریکہ نے سب سے زیادہ مطلوب مجرم قرار دیا تھا، اور امریکہ نے اس کی گرفتاری کے لیے 15 ملین ڈالر انعام کا اعلان کر رکھا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ایل مینچو کی ہلاکت کے بعد کارٹیل کے انتقامی حملوں سے ملکی سکیورٹی کے لیے بڑا چیلنج پیدا ہوا ہے، اور پولیس اور فوج حالات پر قابو پانے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔
