امریکا اور اسرائیل کی یلغار کے بعد ایران کا بھرپور جوابی وار
خطے میں جنگ کے بادل گہرے ہو گئے ہیں۔ امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فضائی و بحری کارروائیوں کے بعد ایران نے بھی جوابی حملوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے، جس سے خلیجی ریاستوں اور اسرائیل میں ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہنگامی خطاب میں اعلان کیا کہ ایران کے خلاف وسیع آپریشن “ایپک فیوری” شروع کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق امریکی افواج ایرانی بحری اور میزائل صلاحیت کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے لیے کارروائی کر رہی ہیں اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔
ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ مشترکہ حملوں میں ایران کی اعلیٰ قیادت اور حساس تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی دفاعی حکام کے مطابق کارروائی کی منصوبہ بندی کئی ماہ سے جاری تھی اور یہ “پیشگی حملہ” تھا جس کا مقصد ممکنہ خطرے کو ختم کرنا ہے۔
دبئی اور تل ابیب نشانے پر
جوابی کارروائی میں ایران نے مبینہ طور پر دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ٹرمینل تھری کو میزائل حملے میں نشانہ بنایا۔ عرب میڈیا کے مطابق حملے کے بعد ٹرمینل میں دھواں بھر گیا اور مسافروں کو ہنگامی طور پر باہر نکالا گیا۔ ابتدائی اطلاعات میں متعدد زخمیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
اسی دوران تل ابیب میں اسرائیلی وزارتِ دفاع کی عمارت کو بھی نشانہ بنانے کی خبر سامنے آئی، جس کے نتیجے میں ہلاکتوں اور درجنوں زخمیوں کی اطلاعات ہیں۔ شہر میں متعدد مقامات پر آگ بھڑک اٹھی اور ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، اسکول بند اور شہریوں کو محفوظ پناہ گاہوں میں رہنے کی ہدایت کی گئی۔
خلیجی اڈے اور ایرانی نیوی الرٹ
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران نے بحرین، قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات میں امریکی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا، جن میں الدفرہ ایئربیس اور بحرین کا بحری اڈہ شامل ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے بعض میزائل مار گرانے کا دعویٰ کرتے ہوئے حملے کو خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
دوسری طرف تہران، بوشہر، اصفہان، خرم آباد اور دیگر شہروں میں دھماکوں کی اطلاعات ہیں۔ ایرانی نیوی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے جبکہ اسرائیل نے اپنی فضائی حدود عارضی طور پر بند کر دی ہیں۔
خطہ غیر یقینی صورتحال میں
روسی اور عرب میڈیا مختلف دعوے کر رہے ہیں کہ حملوں میں ایرانی عسکری کمانڈرز اور حساس انٹیلی جنس مراکز کو نقصان پہنچا، تاہم کئی اطلاعات کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
