مظاہرین کی امریکی قونصل خانے کی جانب پیش قدمی، فائرنگ سے 9 افرد جاں بحق
کراچی میں ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت کے خلاف ہونے والا احتجاج اُس وقت پُرتشدد رخ اختیار کرگیا جب مظاہرین نے مائی کلاچی روڈ پر قائم امریکی قونصل خانے کی جانب بڑھنے اور مرکزی دروازے سے اندر داخل ہونے کی کوشش کی۔ کشیدگی کے دوران فائرنگ سے 9 افراد جاں بحق جبکہ 35 سے زائد زخمی ہوگئے۔
اطلاعات کے مطابق مختلف مذہبی تنظیموں کے کارکنان بڑی تعداد میں امریکی قونصل خانے کے باہر جمع ہوئے۔ صورتِ حال اس وقت بگڑ گئی جب مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم شروع ہوا، پتھراؤ اور آنسو گیس کی شیلنگ سے علاقہ میدانِ جنگ بن گیا۔
لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر ایمبولینسوں کے ذریعے سول اسپتال کراچی کے ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا، جہاں اسپتال انتظامیہ کے مطابق تمام اموات گولی لگنے سے ہوئیں جبکہ دو زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔
جھڑپوں کے دوران کئی پولیس موبائلوں کو نقصان پہنچا اور متعدد اہلکار زخمی ہوئے۔ مشتعل افراد نے سلطان آباد کے قریب ٹریفک پولیس چوکی اور چند موٹر سائیکلوں کو بھی آگ لگا دی۔ شہر کے مختلف زونز سے اضافی نفری طلب کرلی گئی جبکہ پولیس حکام موقع پر پہنچ کر صورتحال کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے رہے۔
صورتحال کے پیش نظر مائی کلاچی روڈ اور ایم ٹی خان روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا اور شہریوں کو متبادل راستوں کی ہدایات جاری کی گئیں۔
دوسری جانب اسلام آباد اور لاہور میں بھی امریکی قونصل خانوں کے باہر احتجاجی مظاہرے کیے گئے، تاہم وہاں کسی بڑے تصادم کی اطلاع نہیں ملی۔
آخری اطلاعات تک کراچی میں وقفے وقفے سے کشیدگی برقرار تھی جبکہ سیکیورٹی ادارے حساس مقامات پر ہائی الرٹ ہیں۔
