تازہ ترین:
مسنگ پرسنز کے نام پر دہشتگردی چھپائی گئی، خواجہ آصف
تازہ ترین

مسنگ پرسنز کے نام پر دہشتگردی چھپائی گئی، خواجہ آصف

01 Feb 2026 3,883

وزیر دفاع خواجہ آصف نے مسنگ پرسنز کے معاملے کو “منظم فراڈ” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد لاپتہ افراد کی اکثریت کالعدم تنظیم بی ایل اے سے وابستہ ہے اور ریاست پورے ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

سیالکوٹ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ جب دہشتگرد کارروائیوں میں مارے جاتے ہیں تو ان کے نام لاپتہ افراد کی فہرستوں میں سامنے آتے ہیں۔

ان کے بقول بعض خاندان لاپتہ افراد کے نام پر الاؤنس بھی وصول کرتے رہے ہیں جبکہ دہشتگرد تنظیمیں خواتین اور کم عمر بچوں کو بھی بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہیں۔

وزیر دفاع نے انکشاف کیا کہ حالیہ حملوں میں دو مختلف مقامات پر خواتین کو استعمال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ عناصر ملک کو دوبارہ معاشی عدم استحکام کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں،

تاہم سکیورٹی ادارے ان کے عزائم ناکام بنا رہے ہیں۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ گرفتار دہشتگردوں کے اعترافی بیانات سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ ان کارروائیوں کے تانے بانے بھارت سے ملتے ہیں، جبکہ بی ایل اے ایک غیر ملکی فنڈڈ دہشتگرد تنظیم ہے جو سرحدوں سے باہر بھی نیٹ ورک رکھتی ہے۔

انہوں نے بھارت اور افغانستان پر زور دیا کہ وہ بی ایل اے اور ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کو بطور فرنچائز استعمال کرنا بند کریں۔ وزیر دفاع کے مطابق پاکستان طویل عرصے سے دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اور اب اس ناسور کا مکمل خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے۔

خواجہ آصف نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں کوئٹہ کے سریاب روڈ، دالبندین ایف سی ہیڈ کوارٹر اور نوشکی میں حملوں کے واقعات پیش آئے، جن میں دہشتگرد 12 مختلف مقامات کو نشانہ بنا کر بھاری جانی نقصان چھوڑتے ہوئے فرار ہو گئے۔

انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز بدستور آپریشن میں مصروف ہیں اور دہشتگردوں کا پیچھا جاری ہے۔

عالمی سیاست پر بات کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اسرائیل اور امریکا کی خوشنودی کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔

ان کے مطابق یہ موقف صرف ان کا نہیں بلکہ خود بھارت کی کانگریس پارٹی اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی پاکستان کی عسکری کامیابیوں کا اعتراف کر چکے ہیں۔

خواجہ آصف نے واضح کیا کہ پاکستان کی ریاست دہشتگردی کے خلاف کسی دباؤ یا سازش کو خاطر میں نہیں لائے گی اور امن کے قیام تک کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔