تازہ ترین:
ڈیل نہ کرتے توآبنائےہرمزنہ کھلتی،امریکی صدر ٹرمپ کادعویٰ
تازہ ترین

ڈیل نہ کرتے توآبنائےہرمزنہ کھلتی،امریکی صدر ٹرمپ کادعویٰ

10 Jun 2026 3,843

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جی سیون اجلاس کے اختتام پر  پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ڈیل نہ کرتے تو آبنائے ہرمز نہ کھلتی اور بمباری ہفتوں یا مہینوں چلتی رہتی

ٹرمپ نے کہا کہ اب ڈیل ہوگئی ہے اور تیل کی قیمتیں گر رہی ہیں اور آبنائے ہرمز کھلنے جارہی ہے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کی بحریہ، فضائیہ سب تباہ ہوچکی ہے، ایران کی قیادت ختم ہوچکی، ایران میں رجیم چینج ہوچکی نئی قیادت آگئی ہے جو اسمارٹ ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جی سیون ممالک سے ایران معاہدے کی تفصیلات پر بات کی ہے

جی سیون ممالک بہت خوش ہیں کہ ہم نے ایران سے معاہدہ کر لیا ہے،کسی ایک ملک نے بمباری جاری رکھنے کا نہیں کہا۔

امریکی صدر نے کہا کہ مذاکرات کے لیے پاکستان اور قطر نے بہت کام کیا۔

ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم کے حوالے سے کہا کہ نیتن یاہو سے لبنان کے معاملے پر اختلاف ہے

اسرائیل حزب اللہ کے معاملے میں اچھی کارکردگی دکھا سکتا تھا،

نیتن یاہو بعض اوقات کچھ جذباتی ہوجاتا ہے لیکن اچھا ساتھی رہا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ مفاہمتی یادداشت کی ایک کاپی اسرائیل کو بھیجی ہے۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ میں جنگ جاری رکھ سکتا تھا لیکن میں پوری دنیا میں کساد بازاری نہیں چاہتا

جیسے ہی ہم امن کی بات کرتے ہیں اسٹاک مارکیٹ راکٹ کی طرح اوپر جاتی ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران راضی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہ بنائے گا نہ حاصل کرے گا

ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روک کر پوری دنیا کو تباہی سے بچایا ہے

جوہری ذخائر سے متعلق تکنیکی بات چیت بھی جلد شروع ہوجائے گی، ہم ایران سے افزودہ جوہری مواد نکال کر ناکارہ بنائیں گے۔

ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ معاہدے سے پورے مشرق وسطیٰ میں امن آئے گا۔

امریکی صدر نے کہا کہ امریکا ایران میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کررہا، پڑوسی ایسا کرسکتے ہیں، ایران کو جنگ سے 2 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوا ہے

ایران کو سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، پڑوسی ممالک یا کچھ اور لوگ اس مد میں مدد کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران کا بہت سارا پیسہ منجمد کیا ہے اور وقت آنے پر یہ واپس کریں گے، ایران اچھا برتاؤ کرے گا تو 300 ارب ڈالر کے فنڈ تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید غیر معمولی جنگجو ہیں وہ بم گرا رہے تھے، میں نے پوچھا یہ بم کون گرا رہا ہے، معلوم ہوا یہ یو اے ای تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ خلیجی ممالک سے ایران کے بیلسٹک میزائلوں اور دہشت گرد پراکسیز پر بھی بات چیت کررہے ہیں

ایران جنگ میں غیرجانبدار رہنے پر چینی اور روسی صدور کے شکرگزار ہیں۔