فیول اسکیم کا حصہ نہیں بنیں گے، زبردستی کرنے پر پیٹرول پمپس بند کر دیں گے، پی پی ڈی اے
پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (پی پی ڈی اے) نے اعلان کیا ہے کہ سبسڈی شدہ رقم کی ادائیگی کے طریقے کی وضاحت تک ڈیلرز فیول اسکیم کا حصہ نہیں بنیں گے، اگر زبردستی کی گئی تو پیٹرول پمپ اسٹیشنز بند کر دیں گے۔
ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک خدا بخش نے عہدے داروں اور ڈیلرز کے ہمراہ کراچی میں کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی حکومت کی فیول سبسڈی کے پروگرام پر تحفظات کا اظہار کر دیا۔
ملک خدا بخش نے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مہینے میں ایک مرتبہ مقرر کی جائیں، حکومت ریلیف اسکیم کے بارے میں پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن سے مشاورت کرے، پیٹرولیم ڈیلرز کا مارجن 8 فیصد کیا جائے۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ حکومت سے تین روز سے رابطہ کر رہے ہیں لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔
انہوں نے کہا کہ بحیرہ احمر سے پیٹرولیم مصنوعات پاکستان میں لانے پر اضافی لاگت کا سامنا ہے، اس راستے سے سعودی تیل لانے کا عرصہ 23 روز سے تجاوز کر گیا جبکہ آبنائے ہرمز کے راستے پیٹرول خلیجی ممالک سے ایک ہفتے میں پاکستان پہنچ رہا تھا۔
اسمارٹ لاک ڈاؤن سے متعلق ملک خدا بخش نے کہا کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کے متحمل نہیں ہو سکتے اس سے کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوں گی، کورونا کی وباء میں عمل ہو سکتا تھا لیکن پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے بحران کا حل اسمارٹ لاک ڈاؤن نہیں۔
پی پی ڈی اے کے مطابق مہنگائی سے ڈیلرز کا سرمایہ پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے، ریلیف اسکیم سے اربوں روپے پھنسنے کا خدشہ ہے، ازالہ کون کرے گا؟ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے اربوں کے واجبات پہلے ہی التوا کا شکار ہیں اور موجودہ طریقہ کار سے ملک بھر کے 14 ہزار ڈیلرز مالی بحران کا شکار ہوں گے۔
