نیٹو ہمارے ساتھ نہیں تو ہم کیوں اربوں ڈالر خرچ کریں؟ صدر ٹرمپ
انقرہ میں ترک صدر رجب طیب اردوان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ صدر اردوان ان کے اچھے دوست ہیں اور ترکیہ کے ساتھ امریکا کے تعلقات انتہائی مضبوط ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صدر اردوان کی قیادت میں ترکیہ ایک مضبوط اور بااثر ملک بن چکا ہے، تاہم دنیا کے بہت سے لوگ اب بھی ترکیہ کی حقیقی فوجی طاقت سے پوری طرح واقف نہیں۔
صدر ٹرمپ نے بتایا کہ ان کی صدر اردوان کے ساتھ تجارت، دوطرفہ تعلقات، عسکری تعاون، ایران کی صورتِ حال اور دیگر اہم علاقائی معاملات پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے ترکیہ بھی یہی چاہتا ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔
نیٹو پر ایک بار پھر تنقید کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ وہ اس اتحاد سے سخت مایوس ہیں اور درحقیقت نیٹو سربراہی اجلاس میں آنا بھی نہیں چاہتے تھے، تاہم چونکہ اس کی میزبانی ترکیہ کر رہا ہے، اس لیے انہوں نے شرکت کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا نیٹو پر اربوں ڈالر خرچ کرتا ہے تاکہ اتحادی ضرورت کے وقت اس کا ساتھ دیں، لیکن جب امریکا کو مدد کی ضرورت پڑی تو کسی نے عملی تعاون نہیں کیا۔
ٹرمپ نے ایران کے خلاف امریکی کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس آپریشن میں امریکا کو کسی بیرونی مدد کی ضرورت نہیں تھی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ہمیشہ یورپ کو روس سے محفوظ رکھا، جب کہ بعض اتحادی صرف جنگ ختم ہونے کے بعد تعاون کی بات کرتے رہے۔
ترکیہ کے دفاعی معاملات پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایف-35 لڑاکا طیاروں سے متعلق اہم فیصلے کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں ترکیہ کی جانب سے ایف-35 طیارے حاصل کرنے پر کوئی تشویش نہیں، جب کہ روسی طیاروں کی خریداری پر بھی انہیں اعتراض نہیں کیونکہ یہ ہر خودمختار ملک کا اپنے قومی مفاد میں کیا جانے والا فیصلہ ہوتا ہے۔
روس اور یوکرین جنگ کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں یقین ہے یوکرین تنازع حل کرنے میں کامیابی ملے گی اور امید ہے کہ جنگ جلد اپنے اختتام کو پہنچ جائے گی۔
مشرق وسطیٰ کی صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ اگر ترکیہ چاہتا تو اسرائیل کے خلاف جنگ میں شامل ہو سکتا تھا، تاہم ان کے خیال میں ایسا نہیں ہوا۔
انہوں نے شام کے نئے صدر احمد الشرع کی بھی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہترین کام کر رہے ہیں اور انہوں نے ایک بکھرے ہوئے ملک کو دوبارہ متحد کرنے کی کوشش کی ہے۔
امریکی صدر نے اعلان کیا ہے کہ ترکیہ پر عائد امریکی پابندیاں ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی انتظامیہ وزیر خارجہ مارکو روبیو اور دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ مل کر اس سلسلے میں کام کر رہی ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ دنیا میں پابندیاں لگانے والے بہت سے لوگ موجود ہیں، لیکن امریکا اپنے دوست ممالک پر پابندیاں برقرار نہیں رکھنا چاہتا۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے منگل کو انقرہ پہنچے تو ایتیمس گوت ایئر بیس پر ان کے لیے خصوصی استقبالی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔
ترک روایات کے مطابق استقبالی مقام پر روایتی سرخ قالین کے بجائے فیروزی رنگ کا قالین بچھایا گیا، جو ترکی کی ثقافتی شناخت کی علامت سمجھا جاتا ہے، جب کہ ترک اعزازی گارڈ نے بھی صدر ٹرمپ کو سلامی پیش کی۔
صدر رجب طیب اردوان خود ہوائی اڈے پر موجود تھے اور انہوں نے امریکی صدر کا خیرمقدم کیا۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات کو امریکا اور ترکی کے قریبی تعلقات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ ماضی میں کئی مواقع پر اردوان کو اپنا دوست قرار دے چکے ہیں۔
نیٹو کے اس اہم اجلاس صدر ٹرمپ کی مختلف عالمی رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔
نیٹو کا یہ سربراہی اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر رکن ممالک پر دفاعی اخراجات بڑھانے کے لیے دباؤ تیز کر دیا ہے۔
اس دباؤ کے جواب میں توقع کی جا رہی ہے کہ متعدد یورپی ممالک اربوں ڈالر کے نئے دفاعی معاہدوں اور فوجی اخراجات میں اضافے کا اعلان کریں گے۔
