سہیل آفریدی نے مذاکرات سبوتاژ کرنے کی کوشش کی، وزیر داخلہ
لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مسئلہ سیاسی نہیں بلکہ دہشت گردی تھا، ہم چاہتے تھے کہ خیبرپختونخوا کی حکومت دہشت گردی کے معاملے پر ہمارے ساتھ کھڑی ہو۔
انہوں نے کہا کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے وزیر اعظم اور صدر پاکستان کو رات کی صورتحال سے آگاہ کیا، میں علامہ ناصر عباس اسد قیصر ، بیرسٹر گوہر ، عامر ڈوگر کا شکریہ ادا کروں گا، انھوں نے نیک نیت کے ساتھ مذاکرات کیے، بدقسمتی سے ان کی پارٹی نے خاص پر مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ون ون صورتحال میں معاملات آگئے تھے، میں صدر پاکستان کو فائنل ڈرافٹ دکھا کر آیا تو پتہ چلا وزیر اعلی کے پی کے نے تبدیلی کی، ایک ایک کرکے ایشو کو ریزالو کیا گیا تھا، واپس آیا تو پتہ چلا کہ ڈرافٹ میں کافی تبدیلیوں کا کہا گیا ہے، چار مرتبہ ڈرافٹ کو تبدیل کیا گیا، راجہ ناصر عباس اور دیگر کو خراب کیا گیا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ان سے کہا کہ لانگ مارچ ملتوی کردے، حکومتی اراکین نے نیک نیتی کے ساتھ کوشش کی مسئلہ حل ہو
حکومتی ٹیم کو بھی کریڈٹ جاتا ہے، اگر ہمیں اندازہ ہوتا کہ اپوزیشن کمیٹی میں کوئی ایسا بندہ موجود نہیں ہے جس کے پاس کے پی کے گورنمنٹ کا بندہ موجود نہیں ہے تو مذاکرات نہ کرتے، ہم کہہ رہے تھے کہ کے پی کے میں دہشت گردی میں ایک ساتھ اکھٹے کھڑے ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہاں پر ان کے ساتھ جو لوگ بیٹھے تھے انھوں نے کہا کہ ہم اس پر بالکل بات نہیں کرے گے۔
قبل ازیں محسن نقوی نے وزیر اعظم سے لاہور میں ملاقات کی، ذرائع کے مطابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کے بعد محسن نقوی کے گھر پہنچے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یہ دوسری ملاقات ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم سے ملاقات کے بعد وزیر داخلہ محسن نقوی پریس کانفرنس کریں گے۔
اس کے علاوہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے صدر آصف علی زرداری سے بھی رابطہ کیا۔
ذرائع کے مطابق صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے مذاکرات کے حوالے سے حکومتی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔
