مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں مگر ریاست کو یرغمال بنا کر مطالبہ تسلیم نہیں کرایا جاسکتا، رانا ثنا
وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی ذاتی مفادات چھوڑ کر مذاکرات کی طرف آئے، دروازے کھلے ہیں۔
پریس کانفرنس میں وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں تاہم ریاست کو یرغمال بنا کر کوئی مطالبہ تسلیم نہیں کرایا جاسکتا۔
انہوں نے پی ٹی آئی پر زور دیا کہ وہ ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کی جانب آئے۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ سیاسی اختلافات کا حل مذاکرات ہی کے ذریعے ممکن ہے، اس لیے پی ٹی آئی ذاتی مفادات کو ایک طرف رکھ کر مسائل کے حل کی طرف بڑھے۔
انہوں نے کہا کہ قانون قومی مفاد پر ذاتی مفاد کو ترجیح دینے کی اجازت نہیں دیتا۔ رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی خیبرپختونخوا حکومت کے وسائل استعمال کررہی ہے۔
اسی طرح مذاکرات میں پیدا ہونے والے ڈیڈ لاک کو غلط انداز میں پیش کیا جارہا ہے۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ 4 اکتوبر سے اب تک پی ٹی آئی صرف چند ہزار افراد ہی جمع کرسکی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کو یرغمال بنا کر کسی بھی قسم کا مطالبہ منوانا ممکن نہیں۔
افغانستان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ افغان رجیم کو باور کرایا گیا ہے کہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان سے متعلق پالیسی پر پوری قوم متفق ہے، تاہم پی ٹی آئی اس افغان پالیسی سے اتفاق نہیں کرتی۔
دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے مشیر وزیراعظم نے سوال اٹھایا کہ کسٹمز اور پولیس کے شہدا کیا کسی سیاسی جماعت یا دوسرے صوبے سے تعلق رکھتے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا سلسلہ جاری رہے گا۔
