پشاور: اسکول کی چھت گرنے سے 34 بچے اور ایک ٹیچر جاں بحق، 50 زخمی
دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے سے طلبہ اور اساتذہ ملبے تلے دب گئے، نتیجے میں 34 بچے اور ایک خاتون ٹیچر جاں بحق ہوگئے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق دیر کالونی کے علاقے میں واقع الخیر اسکول سسٹم کی چھت گرنے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں متعدد بچے چھت تلے دب گئے، جن میں جاں بحق ہونے والوں کے علاوہ 50 سے زیادہ زخمی بھی شامل ہیں۔
ترجمان کے مطابق ایمبولینسز اور ڈیزاسٹر وہیکلز نے موقع پر پہنچ کر امدادی کاروائیاں کیں۔ 8 سے زائد زخمی بچوں کو ابتدائی طور پر طبی امداد فراہم کرتے ہوئے اسپتال منتقل کیا گیا۔
اسپتال انتظامیہ نے پہلے 6 بچوں اور ایک خاتون ٹیچر کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی، جبکہ مزید زخمیوں کی اسپتال منتقلی کا سلسلہ بھی جاری رہا۔
ترجمان لیڈی ریڈنگ اسپتال محمد عاصم کے مطابق پہلے 17 بچوں کو مردہ حالت میں ایل آر ایچ لایا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔
ترجمان کے مطابق تمام بچوں کی عمریں 13 سال تک ہیں جب کہ ایک خاتون ٹیچر کو بھی مردہ حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
دیر کالونی اسکول گرنے کے واقعے میں جاں بحق ایک بچے کی لاش اور 33 زخمی بچوں کو نصیر اللہ بابر میموریل اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ انتظامیہ کے بعد واقعے کی اطلاع ملتے ہی اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔
بعد ازاں نصیر اللہ بابر اسپتال سے 33 بچوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کردیا گیا۔
انہوں نے جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت اور ان کے لیے صبر جمیل و زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا بھی کی۔ وزیراعظم نے زخمیوں کو ہر ممکن طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی۔
دریں اثنا گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے واقعے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حادثے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ معصوم بچوں کی قیمتی جانوں کا ضیاع انتہائی دردناک سانحہ ہے۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے متعلقہ حکام سے اسکول کی چھت گرنے کے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے۔
پشاور میں الخیر اسکول کی چھت گرنے کے افسوس ناک واقعے کے بعد فوج اور دیگر ریسکیو اداروں نے امدادی کارروائیاں کیں۔ پاک فوج کے جوانوں نے ریسکیو اور دیگر ریلیف اداروں کے شانہ بشانہ ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا۔
ملبے میں دبے بچوں اور دیگر اسکول اسٹاف کو ریسکیو کرکے اسپتال منتقل کیا گیا۔
سی سی پی او ڈاکٹر میاں سعید نے کہا ہے کہ متاثرہ اسکول کے مالک کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسکول کی چھتیں خستہ بنائی گئی تھیں۔ اس افسوس ناک واقعے پر مقدمہ درج ہوگا۔
سی سی پی او کے مطابق اسکول تنگ گلیوں میں بنایا گیا تھا، جس کی وجہ سے ریسکیو میں بھی مشکلات پیش آئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسکول میں 110 بچے زیر تعلیم تھے۔
دیر کالونی پشاور میں نجی اسکول کی عمارت گرنے کے واقعے میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد بھی زندگی کے بازی ہار گئے پانچوں بچے آپس میں قریبی رشتے دار تھے۔
دیر کالونی کے رہائشی منگل خان کا کہنا ہے کہ اس حادثے میں اس کا 9 سالہ بچہ عامر خان جبکہ اس کی بھتیجی رومیسا جاں بحق ہوگئی، جاں بحق عامر اور رومیسہ دونوں اسی سکول میں پڑھ رہے تھے۔
جاں بحق بچوں کی اجتماعی نماز جنازہ ادا کردی گئی ہے جس میں بہت بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے دیرکالونی سانحہ میں شہداء بچوں کیلئے 10، 10 لاکھ روپے اور زخمیوں کیلئے 2 لاکھ روپے دینے کا اعلان کر دیا اور کہا ہے کہ خستہ حال عمارت کو گزشتہ دور حکومت میں این او سی کس نے دی جو بھی ملوث پایا گیا اس کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
