ایرانی سپریم لیڈر کا امریکا کو کرارا جواب، حملہ کیا تو پورا خطہ آگ میں ڈوب جائے گا
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکا کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر واشنگٹن نے ایران پر کوئی فوجی حملہ کیا تو یہ تنازعہ پورے مشرق وسطیٰ کو آگ میں جھونک دے گا اور ایک بھرپور علاقائی جنگ کا باعث بنے گا۔
تہران میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکیوں کی جانب سے جنگی طیاروں، بحری بیڑوں اور فوجی طاقت کے مظاہرے کوئی نئی بات نہیں۔
یہ دھمکیاں ماضی سے چلی آ رہی ہیں، جب ٹرمپ انتظامیہ بھی تمام آپشنز میز پر جیسے بیانات دیتی رہی ہے۔ لیکن ایرانی قوم ایسی باتیں سن کر گھبراتی نہیں، بلکہ مزید مضبوط ہو جاتی ہے۔
خامنہ ای نے زور دیا کہ ایران کسی پر حملہ کرنے کا خواہشمند نہیں، نہ ہی جنگ کا آغاز کرے گا، مگر جو بھی جارحیت کرے گا، اسے سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
ایرانی عوام کسی بھی حملہ آور کو معاف نہیں کریں گے جو ان کی سرزمین، عزت اور آزادی پر ہاتھ ڈالے۔
انہوں نے حالیہ اندرونی احتجاجات کا بھی ذکر کیا اور انہیں امریکی-صہیونی سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ مظاہرین نے پولیس، حکومتی عمارات، پاسداران انقلاب کی تنصیبات، بینکوں اور حتیٰ کہ مساجد تک کو نشانہ بنایا، مگر قوم نے اس بغاوت کی آگ کو راکھ میں بدل دیا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکا نے خلیج میں اضافی فوجی دستے تعینات کیے ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خلاف سخت موقف اپنائے ہوئے ہے۔
سپریم لیڈر کا پیغام واضح ہے: دھمکیاں بیکار ہیں، ایران تیار ہے اور خطہ امن کی بجائے جنگ کی طرف دھکیلا جائے گا تو اس کی قیمت سب کو ادا کرنی پڑے گی۔
