سعودی عرب، قطر اور پاکستان سمیت مسلم ممالک کو ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بن جانا چاہیے: ٹرمپ
تازہ ترین

سعودی عرب، قطر اور پاکستان سمیت مسلم ممالک کو ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بن جانا چاہیے: ٹرمپ

25 May 2026 3,382

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران امریکا معاہدے کے ساتھ ہی مسلم ممالک کو ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بن جانا چاہیے۔

اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں اچھی پیشرفت ہورہی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ یا تو ایک بہترین معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور اس صورت میں جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے جو پہلے سے زیادہ شدید ہوگی۔

ٹرمپ نے کہا کہ کوئی بھی فریق جنگ نہیں چاہتا، اسی لیے امریکا ایک جامع معاہدے کی کوشش کر رہا ہے۔

ٹرمپ کے مطابق ’اپنی گفتگو کے دوران، میں نے کہا کہ  تمام کوششوں کے بعد، کم از کم یہ ضروری ہونا چاہیے کہ یہ تمام ممالک بیک وقت ابراہیمی معاہدے پر دستخط کریں۔

ٹرمپ نے کہا کہ ان ممالک میں سعودی عرب، قطر، پاکستان، ترکیے، مصر اور اردن شامل ہیں جبکہ متحدہ عرب امارات اور بحرین پہلے ہی اس معاہدے میں شامل ہیں۔

ٹرمپ کے مطابق ممکن ہے کہ ایک یا دو ممالک کے پاس معاہدوں میں شامل نہ ہونے کی کوئی وجہ ہو، جسے قبول کیا جا سکتا ہے لیکن زیادہ تر ممالک کو اس تاریخی معاہدے کا حصہ بننے کے لیے تیار ہونا چاہیے۔

امریکی صدر نے کہا کہ سعودی عرب اور قطر کو فوری طور  پر اس معاہدے پر دستخط کرنے چاہیے، اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو انہیں اس معاہدے کا حصہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ بری نیت کی علامت ہوگی۔

ٹرمپ نے کہا کہ مذکورہ رہنماؤں سے بات چیت کے دوران یہ بھی واضح ہوا کہ وہ اس بات کو اعزاز سمجھیں گے کہ جیسے ہی ہمارا معاہدہ طے پاتا ہے

اسلامی جمہوریہ ایران کو بھی ابراہیمی معاہدے میں شامل کیا جائے، اور یہ واقعی ایک غیر معمولی بات ہوگی۔

امریکی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ میں لازمی طور پر مطالبہ کرتا ہوں کہ تمام ممالک فوری طور پر ابراہیمی معاہدے پر دستخط کریں۔

ٹرمپ نے اپنے نمائندوں کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر اس عمل کا آغاز کریں اور ان ممالک کو اس تاریخی ابراہیمی معاہدے میں شامل کرنے کا عمل کامیابی سے مکمل کریں۔

خیال رہے کہ سال 2020 میں ٹرمپ کے پہلے دور صدارت کے دوران متحدہ عرب امارات، بحرین اور دیگر ممالک نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی  تعلقات قائم کیے تھے۔