ایران-امریکہ جوہری مذاکرات کا ڈرامہ ختم، کل عمان میں جوہری بساط بچھے گی
ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری معاملے پر مذاکرات کی تعطل کی خبریں اور قیاس آرائیاں مکمل طور پر مسترد ہو گئیں۔ دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے تصدیق کر دی ہے کہ جمعہ 6 فروری 2026 کو صبح 10 بجے (مقامی وقت) عمان کے دارالحکومت مسقط میں یہ مذاکرات طے شدہ شیڈول کے مطابق ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا:
امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات جمعہ کی صبح 10 بجے مسقط میں ہوں گے۔ میں اپنے عمانی بھائیوں کا تمام ضروری انتظامات مکمل کرنے پر دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہوں۔
دوسری جانب امریکی حکام نے بھی متعدد بین الاقوامی میڈیا اداروں کو گفتگو میں اس کی تصدیق کی۔ وائٹ ہاؤس کے سینئر عہدیداروں نے بتایا کہ امریکہ اس ملاقات میں شرکت کرے گا، جبکہ امریکی نمائندے سٹیو وٹکوف (مشرق وسطیٰ کے خصوصی ایلچی) کی قیادت میں وفد شرکت کرے گا۔
یہ مذاکرات پہلے ترکیہ (استنبول) میں شیڈول تھے، لیکن ایران نے آخری لمحات میں مقام تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ایران کا مؤقف یہ ہے کہ بات چیت صرف جوہری پروگرام اور پابندیوں کے خاتمے تک محدود رہے گی۔
اس کے علاوہ کسی بھی علاقائی شراکت دار (جیسے عرب ممالک) کو شامل نہیں کیا جائے گا اور میزائل پروگرام، علاقائی تنازعات یا دیگر مسائل پر بحث نہیں ہو گی۔
امریکی حکام نے بتایا کہ واشنگٹن نے عمان کو میزبان بنانے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے، تاہم بعض امریکی عہدیداروں (بشمول وزیر خارجہ مارکو روبیو) کا کہنا ہے کہ بامعنی پیش رفت کے لیے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر بھی بات ہونی چاہیے۔
یہ مذاکرات اس وقت انتہائی اہمیت کے حامل ہیں جبکہ خطے میں کشیدگی عروج پر ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایران کو خبردار کیا تھا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو “ایران کو بہت پریشان ہونا پڑے گا”۔ عمان، جو دونوں ممالک کے درمیان روایتی ثالث کا کردار ادا کرتا ہے، ایک بار پھر اس حساس عمل میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ملاقات خطے میں امن کی بحالی یا نئی کشیدگی کا آغاز ہو سکتی ہے۔ مذاکرات کے نتائج پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔
