خرمشہر فور میزائل کا تجربہ، ایران نے دفاعی حدود میں نئی حد قائم کر دی
ایران نے اپنے جدید طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل ’’خرمشہر فور‘‘ کے کامیاب تجربے کا اعلان کرتے ہوئے پہلی بار اسے زیرِ زمین تنصیبات میں نصب کرنے کی تصدیق کر دی ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ تجربہ پاسدارانِ انقلاب کے ایرو اسپیس یونٹ کی نگرانی میں انجام پایا، جسے دفاعی صلاحیت میں بڑا اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ خرمشہر فور تقریباً دو ہزار کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ڈیڑھ ہزار کلوگرام تک وزنی وارہیڈ لے جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ نظام ایران کی میزائل ٹیکنالوجی میں ایک اہم سنگِ میل ہے، جو ملک کی دفاعی تیاری کو نئی سطح پر لے جاتا ہے۔
سرکاری رپورٹس کے مطابق میزائل کو ایک محفوظ زیرِ زمین مقام پر تعینات کیا گیا ہے، جبکہ پاسدارانِ انقلاب کے خلائی کمانڈ کے تحت ایک نئے ’’میزائل سٹی‘‘ کی تیاری بھی جاری ہے۔
عسکری تجزیہ کار اس پیش رفت کو ایران کی اس حکمتِ عملی کا حصہ قرار دے رہے ہیں جس میں زیرِ زمین تنصیبات کے ذریعے اسلحہ محفوظ رکھنے اور فوری ردِعمل کی صلاحیت بڑھانے پر زور دیا جا رہا ہے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں تناؤ بڑھ رہا ہے اور ایران و امریکا کے درمیان عمان میں جوہری مذاکرات متوقع ہیں۔ تہران کا مؤقف ہے کہ گزشتہ برس اسرائیل کے ساتھ محدود مگر شدید جھڑپوں کے بعد اس کی دفاعی پالیسی میں تبدیلی کی گئی ہے۔
حکام کے مطابق نئی حکمتِ عملی میں صرف دفاعی ردِعمل ہی نہیں بلکہ ممکنہ خطرے کی صورت میں پیشگی اقدام کا اختیار بھی شامل ہے۔
امریکا طویل عرصے سے ایران کے بیلسٹک پروگرام پر تحفظات ظاہر کرتا رہا ہے، کیونکہ ایرانی میزائل اسرائیل اور خلیج میں موجود امریکی تنصیبات تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایران اس تنقید کو مسترد کرتے ہوئے اپنے پروگرام کو مکمل طور پر دفاعی قرار دیتا ہے۔
ادھر ایرانی وزارتِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ عسکری سرگرمیوں کے باوجود سفارتکاری کا دروازہ بند نہیں کیا جا رہا۔ ترجمان کے مطابق عمان میں ہونے والے مذاکرات میں ایران ایک منصفانہ اور متوازن معاہدہ چاہتا ہے جو صرف جوہری معاملات تک محدود ہو۔ ایرانی وفد کی قیادت وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کر رہے ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوجی آپشن کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جبکہ خطے میں امریکی افواج کی موجودگی میں اضافہ بھی رپورٹ کیا جا رہا ہے۔ عالمی مبصرین خبردار کر رہے ہیں کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی اگر قابو میں نہ آئی تو اس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
