امریکی صدر اور اسرائیلی وزیر اعظم نے ایرانی سپریم لیڈر کو شہید کرنے کا دعویٰ کر دیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ ایک مشترکہ کارروائی میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سمیت اہم شخصیات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم تہران نے ان بیانات کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ایران کے حساس عسکری اور جوہری تنصیبات پر وسیع حملے کیے گئے، پاسدارانِ انقلاب کے متعدد کمانڈرز مارے گئے اور سپریم لیڈر کے کمپاؤنڈ کو تباہ کر دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ دنوں میں مزید اہداف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے بھی اسی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جدید انٹیلی جنس اور ٹیکنالوجی کی مدد سے “ہدف کامیابی سے حاصل کیا گیا” اور ایرانی قیادت جدید ٹریکنگ سسٹمز سے بچ نہ سکی۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ کارروائیاں مطلوبہ نتائج تک جاری رہیں گی۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای محفوظ مقام پر موجود ہیں اور مکمل طور پر خیریت سے ہیں۔ ایرانی ذرائع کے مطابق صدارتی محل کے قریب دھماکوں اور میزائل حملوں کی اطلاعات ضرور ہیں، مگر سپریم لیڈر اور صدر مسعود پزشکیان محفوظ رہے۔
غیر مصدقہ رپورٹس میں ایرانی وزیر دفاع اور پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ کی ہلاکت کے دعوے بھی سامنے آئے، تاہم تہران نے ان اطلاعات کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ ایرانی سفارت خانے نے البتہ اس امر کی تصدیق کی ہے کہ حملوں میں سپریم لیڈر کے داماد اور بہو جاں بحق ہوئے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے مختلف مقامات پر فضائی و بحری کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جن میں درجنوں تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔ ایرانی حکام کے مطابق ان حملوں میں شہری ہلاکتیں اور زخمی بھی ہوئے ہیں۔
