اسرائیل کا ایرانی صدر دفتر پر حملہ، نئے وزیر دفاع کی ہلاکت کی متضاد خبریں
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی نے خطرناک موڑ لے لیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے تہران کے حساس ترین علاقے میں واقع صدارتی و اعلیٰ حکومتی کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا، جہاں اہم ریاستی دفاتر اور قومی سلامتی سے متعلق عمارتیں موجود ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق حملہ ایسے مقام پر کیا گیا جسے ایران کی اعلیٰ قیادت کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مبینہ حملے کا ہدف وہ کمپاؤنڈ تھا جہاں صدارتی دفتر اور اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کی عمارتیں واقع ہیں۔ اگرچہ نقصانات کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آ سکیں، تاہم اس کارروائی نے تہران میں ہلچل مچا دی ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی ٹی وی چینل 12 نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے نئے وزیرِ دفاع اپنی تعیناتی کے محض 24 گھنٹوں بعد ایک حملے میں مارے گئے۔
تاہم اس دعوے کی نہ تو اسرائیلی حکومت نے باضابطہ تصدیق کی ہے اور نہ ہی ایران کی جانب سے کوئی واضح بیان جاری ہوا ہے۔ کسی معتبر عالمی خبر رساں ادارے نے بھی اس خبر کی توثیق نہیں کی۔
یاد رہے کہ ایران کے صدر نے حال ہی میں ماجد ابن الرضا کو قائم مقام وزیر دفاع مقرر کیا تھا، جو کہ اسلامی انقلابی گارڈ کور کے جنرل بھی ہیں۔ اگر ہلاکت کی خبر درست ثابت ہوتی ہے تو یہ ایرانی عسکری قیادت کے لیے بڑا دھچکا ہوگا۔
