پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے “اعتماد کی بار بار خلاف ورزی” پر آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کے گزرنے پر دوبارہ پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کے گزرنے پر ایرانی مسلح افواج کی مکمل نگرانی ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ اگر امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رہتی ہے تو اس راستے کو کالعدم تصور کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے کا کنٹرول اُس وقت تک مسلح افواج کے سخت انتظام اور کنٹرول کے تحت رہے گا جب تک کہ امریکا ایرانی بندرگاہوں کے لیے بحری جہازوں کی روانگی کی ناکہ بندی ختم نہیں کر دیتا ہے۔
پاسداران انقلاب نے امریکی افواج کی جانب سے ناکہ بندی کو بحری قزاقی اور غیرقانونی اقدام قرار دیا ہے۔
ایرانی حکومت کا مزید کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے صرف وہی جہاز گزرسکیں گے جنہیں ایران اجازت دے گا۔ علاوہ ازیں جہازوں کو مقرر کردہ راستوں پر چلنا ہوگا اور مخصوص فیس ادا کرنا ہوگی۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ جب تک ایران کے ساتھ مکمل معاہدہ نہیں ہو جاتا، ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی برقرار رہے گی۔
یوکے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنکے بقول فائرنگ کا یہ واقعہ آبنائے ہرمز عمان کے شمال مشرق میں تقریباً 20 ناٹیکل میل کے فاصلے پر پیش آیا۔ آئل ٹینکر اور عملہ محفوظ ہیں، کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
شپنگ مانیٹرنگ گروپ ٹینکر ٹریکر نے دعویٰ کیا ہے کہ دو بحری جہازوں جن میں سے ایک بھارتی پرچم بردار سپر ٹینکر بھی شامل تھا کو ایرانی گن بوٹس نے نشانہ بنایا اور واپس جانے پر مجبور کیا۔
رپورٹس کے مطابق ایک واقعے میں ایک بڑا خام تیل بردار جہاز، جو تقریباً 20 لاکھ بیرل عراقی تیل لے جا رہا تھا، بھی متاثر ہوا۔ اس دوران وارننگ کے طور پر فائرنگ بھی کی گئی۔
مزید برآں رائٹرز نے بھی شپنگ ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ کم از کم دو تجارتی جہازوں نے بھی تصدیق کی کہ آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کے دوران ان پر فائرنگ کی گئی۔
اس کے علاوہ آبنائے ہرمز میں کچھ جہازوں کو ریڈیو پیغامات بھی موصول ہوئے جن میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے اور اب کسی بھی جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ اگر امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رہتی ہے تو اس راستے کو کالعدم تصور کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے کا کنٹرول اُس وقت تک مسلح افواج کے سخت انتظام اور کنٹرول کے تحت رہے گا جب تک کہ امریکا ایرانی بندرگاہوں کے لیے بحری جہازوں کی روانگی کی ناکہ بندی ختم نہیں کر دیتا ہے۔
پاسداران انقلاب نے امریکی افواج کی جانب سے ناکہ بندی کو بحری قزاقی اور غیرقانونی اقدام قرار دیا ہے۔
