تازہ ترین:
اسرائیلی انتخابات میں تاریخی زلزلہ،عرب اتحاد نےنیتن یاہوکو’’دفن ‘‘کردیا
تازہ ترین

اسرائیلی انتخابات میں تاریخی زلزلہ،عرب اتحاد نےنیتن یاہوکو’’دفن ‘‘کردیا

28 Oct 2026 9,207

اسرائیل کی سیاسی تاریخ میں ایک بڑا زلزلہ آ چکا ہے جہاں 86 فیصد کے قریب ووٹوں کی گنتی کے بعد وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کا دائیں بازو کا اتحاد حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کی سادہ اکثریت حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں نیتن یاہو کے طویل اقتدار کا سورج غروب ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

تازہ ترین نتائج اور ایگزٹ پولز کے مطابق نیتن یاہو کا اتحاد صرف 53 نشستوں پر اٹک گیا ہے جبکہ ان کے مرکزی حریف اور سابق آرمی چیف گاڈی آئزن کوٹ کی قیادت میں قائم اپوزیشن اتحاد 48 نشستیں حاصل کر سکا ہے، جس سے دونوں میں سے کوئی بھی یہودی بلاک اکیلے حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں رہا۔

عرب جماعتوں کی تاریخی پیش قدمی اور ‘کنگ میکر’ کا کردار

اس انتخابی معرکے میں سب سے سنسنی خیز پیش رفت عرب جماعتوں ‘جوائنٹ لسٹ’ اور منصور عباس کی ‘رعام’ کا 19 نشستیں حاصل کرنا ہے، جس نے صیہونی سیاست کا تمام تر توازن بگاڑ کر رکھ دیا ہے اور تاریخ میں پہلی بار 20 فیصد کے قریب عرب اقلیت کو حکومت سازی کا حقیقی ‘کنگ میکر’ بنا دیا ہے۔

نیتن یاہو کی ناکامی کے بنیادی اسباب اور عوام کا غصہ

نیتن یاہو کی اس تاریخی ناکامی کی بڑی وجوہات میں غزہ پر مسلسل جارحیت، سیکیورٹی نقائص، معاشی ابتری، عالمی سطح پر اسرائیل کی بڑھتی ہوئی تنہائی اور الیکشن سے قبل تل ابیب پر ایٹمی حملے کا جعلی اے آئی  ڈرامہ رچا کر خوف پھیلانے کی سستی سیاسی چالیں شامل ہیں جنہیں ووٹرز نے یکسر مسترد کر دیا۔ ملک میں 1999 کے بعد سب سے زیادہ 77.7 فیصد ووٹر ٹرن آؤٹ نے عوامی غصے کو ثابت کیا ہے۔

مستقبل کے سیاسی سناریوز اور دوبارہ انتخابات کا خطرہ

حالانکہ نیتن یاہو نے عرب جماعتوں کو صیہونیت مخالف قرار دے کر ان سے ہاتھ ملانے سے صاف انکار کر دیا ہے، جبکہ دوسری طرف اپوزیشن رہنما آئزن کوٹ پر اپنے حامیوں کا شدید دباؤ ہے کہ وہ نیتن یاہو کا خاتمہ کرنے کے لیے عرب رہنماؤں منصور عباس اور سامی ابو شہادہ سے مذاکرات کریں۔

عرب رہنماؤں نے بھی واضح کر دیا ہے کہ نیتن یاہو کو اقتدار سے باہر کرنے کے لیے صیہونی قیادت کو عرب آبادی کے حقوق اور مساوات کو تسلیم کرنا ہوگا، اور اگر آئزن کوٹ یا نیتن یاہو آنے والے ہفتوں میں 61 نشستوں کی اکثریت ثابت نہ کر سکے تو اسرائیل کو ایک بار پھر دوبارہ عام انتخابات کے بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔