سانحہ گل پلازہ: 71 اموات کی تصدیق، 82 افراد اب بھی لاپتا،مقدمہ درج
گل پلازہ کے آٹھویں روز بھی سرچ آپریشن جاری ہے، سانحے میں 71 اموات کی تصدیق ہوگئی جب کہ 82 افراد اب بھی لاپتا ہیں، 22 افراد کی ڈی این اے کے ذریعے شناخت ہوچکی ہے۔ہولناک آتشزدگی کے واقعے کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
کراچی کی اہم شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر واقعہ گل پلازہ کی آتشزدگی کو جمعے کو ایک ہفتہ ہونے کو ہے تاہم جاری ریسکیو آپریشن میں ملبے سے انسانی باقیات ملنے کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ سینئر فائر افسر ظفر خان کہتے ہیں کہ اب لاشیں نہیں صرف ہڈیاں مل رہی ہیں۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سعید کے مطابق سانحہ گل پلازہ میں اب تک 71 لاشیں اور باقیات اسپتال پہنچائی گئی ہیں، جن میں سے 22 افراد کی ڈی این اے کے ذریعے شناخت ہوچکی ہے جب کہ 48 افراد کی ڈی این اے رپورٹس آنا باقی ہے۔

گل پلازہ میں آگ لگنےکے بعد لوگوں نے خود کو بچانےکے لیے دکان میں بندکرلیا تھا، ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن بھی اسی جگہ کی آئی تھی۔
ریسکیو حکام نے بتایا کہ گل پلازہ کے گراونڈ فلور پر واقع ایک دکان سے متعدد انسانی اعضا ملے ہیں،انسانی اعضا اسپتال منتقل کیے جارہے ہیں۔
ڈی سی ساوتھ جاوید نبی کھوسو نے کہا کہ میز نائن فلور پر کراکری کی شاپ سے بیس سے پچیس لاشیں ملی ہیں، ملنے والی لاشیں بالکل خراب حالت میں ہیں، لاشوں کی باقیات ریسکیو اہلکاروں کو سرچ آپریشن کے دوران ملی ہیں۔
ریسکیو حکام کی جانب سے جاں بحق اور زخمی افراد کی فہرست جاری
ریسکیو حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں کاشف ولد یونس (40 سال)، فراز ولد ابرار (55 سال)، محمد عامر ولد نامعلوم (30 سال)، فرقان ولد شوکت علی (25 سال) سمیت 5 دیگر افراد شامل ہیں جن کی لاشوں کی تاحال شناخت نہیں ہو سکی۔
زخمی اور متاثرہ افراد میں حسیب ولد وسیم (25 سال)، وسیم ولد سلیم (20 سال)، دانیال ولد سراج (20 سال)، صادق ولد نامعلوم (35 سال)، حمزہ ولد محمد علی (22 سال)، رحیم ولد گل محمد (25 سال)، فہد ولد محمد ایوب (20 سال)، جواد ولد جاوید (18 سال)، ایان ولد نامعلوم (25 سال)، عبداللہ ولد ظہیر (20 سال)، عثمان ولد اصغر علی (20 سال)، فہد ولد حنیف (47 سال)، زین ولد عبداللہ (23 سال)، نادر ولد نامعلوم (50 سال) اور دیگر شامل ہیں۔
لاپتا افراد کے ناموں کی فہرست سامنے آگئی
قبل ازیں ڈپٹی کمشنر کو لوگوں نے شکایات درج کرائی تھیں کہ 56 افراد لاپتا ہیں جبکہ صدر گل پلازہ تاجر ایسوسی ایشن کے مطابق 80 سے 100 افراد عمارت میں موجود ہوسکتے ہیں تاہم ڈی آئی جی ساؤتھ نے بتایا کہ 59 افراد لاپتا ہیں جن کی تفصیلات حاصل کرلی گئی ہیں۔


لوگوں نے ہم سے رابطہ کیا ہے، فیصل ایدھی
ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے کہا ہے کہ عمارت میں 55 سے زائد افراد لاپتا ہیں جن کے ورثاء نے ہم سے رابطہ کیا ہے، فائرفائٹر اپنی جانوں کی قربانی دیکر آگ بجھانے اور لوگوں کو بچانے کی کوشیش کررہے ہیں، عوام سے گزارش ہے پولیس اور انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں عمارت سے دور ہیں۔
تاجروں کے نقصانات کا ازالہ کریں گے، وزیراعلیٰ سندھ کا دورہ
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گل پلازہ کا دورہ کیا۔ میڈیا سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ لوگ یہاں خریداری کرنے آتے ہیں، آج کل شادیوں کا سیزن ہے، رات 10بجے کے بعد یہاں آگی لگنے کی اطلاع ملی، ہماری میونسپل اتھارٹیز نے فوری ریسپانس کیا اور مجھے اطلاع دی، 10 بج کر 27 منٹ پر یہاں پہلا فائر ٹینڈر پہنچا، آگ بجھانے کی کارروائی شروع ہوئی، تقریباً 26 فائر ٹینڈرز، چار اسنارکل اور 10 باؤزر نے حصہ لیا، کے ایم سی کے علاوہ پاکستان نیوی نے بھی اپنا ایک اسنارکل دیا؛ سول ایوی ایشن اتھارٹی سے بھی 3 آگ بجھانے کی مشینیں آئیں لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہ ابھی تک کی معلومات کے مطابق 6 لوگوں کی جانیں گئی ہیں جس میں ایک کے ایم سی کا فائرفائٹر بھی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 22 لوگ زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد دی گئی، افسوس کی بات یہ ہے کہ 58 یا 60 سے بھی زائد افراد لاپتا ہیں، اللہ تعالیٰ اُن کو زندگی دے، یہ بیسمنٹ گراؤنڈ اور تین منزلہ عمارت تھی، یہاں تقریباً ایک ہزار سے زائد دکانیں تھیں، جس طریقے سے آگ لگی ہے ابھی حتمی طورپر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، کچھ کہتے ہیں کہ کسی ایک دکان میں شارٹ سرکٹ کے بعد یہ آگ لگی اور وہاں ایسا میٹریل موجود تھا کہ جس کی وجہ سے آگ فوری پھیل گئی، فائر فائٹرز کو اندر جانے کی جگہ نہیں مل رہی تھی جس کی وجہ سے نقصانات میں اضافہ ہوا۔
گل پلازہ میں 1200 دکانیں موجود تھیں، ڈی آئی جی ساؤتھ
ڈی آئی جی ساؤتھ نے بتایا ہے کہ گل پلازہ میں تیسرے درجے کی آتشزدگی کا واقعہ ہوا، پولیس، سیکیورٹی ادارے اور ریسکیو ٹیمیں ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ریسکیو آپریشن میں مصروف عمل ہیں، آگ پر کافی حد تک قابو پالیا ہے، سندھ حکومت کی ہدایت پر ساؤتھ زون پولیس نے ہیلپ لائن قائم کر دی ہے۔
انہوں ںے بتایا کہ لاپتا افراد سے متعلق معلومات جمع کی جارہی ہیں، حادثے میں رات سے اب تک 6 لاشیں نکال لی گئی ہیں جو کہ شناخت کے بعد ورثا کے حوالے کردی ہیں،ریسکیو اہلکار فرقان بھی شہدا میں شامل ہے، 22 زخمی سول اسپتال میں زیرِ علاج ہیں، گل پلازہ میں 1200 دکانیں موجود تھیں۔
میئر کراچی کی ہدایت پر کے ایم سی کی ہیوی مشینری گل پلازا پہنچیں
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی ہدایت پر میونسپل کمشنر اور دیگر افسران کی سربراہی میں بلدیہ عظمیٰ کراچی کی ہیوی مشینری جائے وقوع پر پہنچی۔
ترجمان کے مطابق میونسپل کمشنر سید محمد افضل زیدی نے ریسکیو آپریشن کی براہِ راست نگرانی کی۔ میونسپل سروسز اور فائر بریگیڈ کی مشینری موقع پر موجود رہی ضرورت پڑنے پر مزید مشینری بھی الرٹ رہی۔
سندھ رینجرز کے جوان بھی ریسکیو آپریشن میں شامل
واقعے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈی جی رینجرز سندھ کی خصوصی ہدایت پر سندھ رینجرز کے چاق و چوبند دستے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور امدادی کاموں میں حصہ لیا۔
گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کا دورہ
گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری گل پلازا پہنچے اور متاثرہ تاجروں سے ملاقات کی۔ انہوں نے آگ لگنے کے واقعے پر بریفنگ لی جبکہ ریسکیو و امدادی کارروائیوں کا جائزہ بھی کیا۔
گورنر سندھ نے متاثرین کے نقصانات اور بحالی کے اقدامات پر فوری ہدایات بھی جاری کیں۔
بلاول بھٹو کا جانی و بھاری مالی نقصان پر اظہار افسوس
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ہولناک آگ کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور بھاری مالی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آتشزدگی کے واقعے میں جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مشکل گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعلیٰ سندھ اور میئر کراچی کو ہدایت کی کہ آگ بجھانے اور ریسکیو آپریشن کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں اور متاثرین کو ہر ممکن امداد فراہم کی جائے۔
