براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں تشویشناک کمی، اقتصادی رپورٹ میں انکشاف
تازہ ترین

براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں تشویشناک کمی، اقتصادی رپورٹ میں انکشاف

27 Jan 2026 9,124

وزارتِ خزانہ کی اقتصادی آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال جولائی تا دسمبر 2025 کے دوران بیرونی سرمایہ کاری میں 43.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ برآمدات بھی 5 فیصد گھٹ کر 15.5 ارب ڈالر تک محدود رہیں۔

رپورٹ کے مطابق چھ ماہ میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کا حجم صرف 81 کروڑ ڈالر رہا، جبکہ دوسری جانب درآمدات 12.3 فیصد اضافے کے ساتھ 31 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔

اسی عرصے میں ترسیلات زر 10 فیصد اضافے سے 19.73 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جب کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 1.17 ارب ڈالر ریکارڈ ہوا۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق ڈالر کی قدر میں معمولی اضافہ ہوا اور شرح تبادلہ 278.7 روپے سے بڑھ کر 279.9 روپے ہو گیا۔

تاہم مثبت پہلو یہ رہا کہ مالی سال کے ابتدائی پانچ ماہ میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 6 فیصد اضافہ دیکھا گیا اور پرائمری سرپلس 3651 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایف بی آر کی آمدن 9.5 فیصد اضافے سے 6160 ارب روپے تک پہنچ گئی، جبکہ نان ٹیکس ریونیو 4.8 فیصد اضافے سے 3581 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا۔

یہ اعداد و شمار مالی نظم و ضبط میں بہتری کی نشاندہی کرتے ہیں۔

اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 16.1 ارب ڈالر ہو گئے ہیں، اور وزارتِ خزانہ کے مطابق مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں معاشی استحکام برقرار رہا۔

رپورٹ میں توقع ظاہر کی گئی ہے کہ مالی سال 26-2025 کے دوران معیشت کی رفتار قائم رہے گی۔

آؤٹ لُک رپورٹ کے مطابق بہتر مالی نظم و ضبط سے معاشی استحکام کو تقویت ملی ہے، جبکہ رواں ماہ مہنگائی 5 سے 6 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔

ایل ایس ایم سیکٹر میں نمایاں بہتری، روپے کی قدر میں استحکام اور پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی عالمی سطح پر شاندار کارکردگی کو بھی رپورٹ کا اہم مثبت پہلو قرار دیا گیا ہے۔