ایرانی کرنسی میں شدید گراوٹ، ایک ڈالر 15 لاکھ ریال کا ہو گیا
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق ایرانی کرنسی ریال اپنی تاریخ کی بدترین سطح پر پہنچ گئی ہے جہاں اوپن مارکیٹ میں ایک امریکی ڈالر کے مقابلے میں اس کی قدر 15 لاکھ ریال تک گر گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ غیر معمولی گراوٹ ایران میں جاری سنگین معاشی بحران کی واضح علامت ہے جس کے اثرات سب سے زیادہ آزاد منڈی میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔
ایرانی ریال کی قدر میں مسلسل کمی کی بڑی وجہ بین الاقوامی پابندیوں کے باعث تیل کی برآمدات میں شدید کمی بتائی جا رہی ہے۔
آمدنی میں کمی نے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھا دیا ہے جس کے باعث ایرانی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں خود کو سنبھالنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے اور تیزی سے نیچے جا رہی ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق حکومتی پالیسی فیصلوں نے سرکاری ریٹ اور اوپن مارکیٹ کے نرخوں کے درمیان فرق کو مزید بڑھا دیا ہے جس سے کرنسی کا عدم استحکام شدید تر ہو گیا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس ایک ڈالر کی قیمت 8 لاکھ 17 ہزار 500 ریال کے قریب تھی جو اب تقریباً دگنی سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔
خوراک، رہائش اور روزمرہ استعمال کی اشیاء عام شہریوں کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں جس کے باعث عوام کے لیے بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
