نیپا وائرس کا خطرہ، پاکستان میں ہائی الرٹ، سرحدوں پر کڑی نگرانی شروع
خطے میں نیپا وائرس کے بڑھتے خدشات کے پیشِ نظر پاکستان میں بھی ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے، تاہم حکام کے مطابق ملک میں ابھی تک نیپا وائرس کا کوئی تصدیق شدہ کیس سامنے نہیں آیا۔
بھارت میں وائرس کے پھیلاؤ کے بعد وفاقی وزارتِ صحت کے ذیلی ادارے بارڈر ہیلتھ سروسز نے فوری انتباہ اور سخت ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔
وزارت صحت کی ہدایت پر ملک کے تمام ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور زمینی سرحدی گزرگاہوں پر سخت اسکریننگ کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
پاکستان آنے والے اور ٹرانزٹ میں موجود تمام مسافروں کی 100 فیصد تھرمل اسکریننگ اور طبی جانچ لازمی قرار دے دی گئی ہے۔
حکام کے مطابق ہر مسافر کی گزشتہ 21 دن کی مکمل سفری تاریخ کی جانچ کی جائے گی، جبکہ نیپا وائرس سے متاثرہ یا ہائی رسک علاقوں سے آنے والوں کو خصوصی نگرانی میں رکھا جائے گا۔
مشتبہ علامات ظاہر ہونے کی صورت میں مسافر کو فوری طور پر آئسولیشن میں منتقل کرنے کی واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
ایڈوائزری میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ طبی کلیئرنس کے بغیر کسی مسافر کو پاکستان میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ صحت حکام کا کہنا ہے کہ احتیاطی اقدامات کا مقصد کسی بھی ممکنہ خطرے کو سرحد پر ہی روکنا ہے۔
ادھر بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں نیپا وائرس کے 5 کیسز رپورٹ ہونے کے بعد خطے بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اسی خدشے کے تحت تھائی لینڈ، ملائیشیا، ہانگ کانگ، سنگاپور اور نیپال میں بھی اسکریننگ کے سخت انتظامات شروع کر دیے گئے ہیں۔
