لاہور، کھلے مین ہول سے ماں کی لاش ملنے کے 18 گھنٹے بعد بچی کی لاش برآمد
بھاٹی گیٹ داتا دربار کے قریب کھلے مین ہول میں ماں اور بیٹی کے گرنے کا دل خراش واقعہ پیش آیا، جس نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا۔
بدھ کی رات پیش آنے والے حادثے میں پہلے ماں کی لاش برآمد ہوئی، اور 18 گھنٹے کی تلاش کے بعد ریسکیو 1122 کی غوطہ خور ٹیم نے بچی کی لاش بھی نکال لی۔
ڈی آئی جی آپریشنز لاہور محمد فیصل کامران نے بتایا کہ جاں بحق خاتون کی شناخت سعدیہ کے نام سے ہوئی، جبکہ بچی کی لاش ریسکیو آپریشن کے بعد ورثہ کے حوالے کر دی گئی ہے۔
واقعے کے بعد فوری طور پر 1122 اور دیگر ادارے متحرک ہوئے اور تین ٹیمیں مسلسل ریسکیو آپریشن میں حصہ لے رہی تھیں، جس میں پچاس سے زائد اہلکار شامل تھے۔
سیف سٹی کیمروں کی مدد سے تحقیقات میں یہ بات ثابت ہوئی کہ خاتون اور بچی کے شوہر کے بیان کردہ تمام حقائق درست تھے۔ ماں اور بیٹی داتا دربار زیارت کے بعد واپسی کے دوران اچانک کھلے مین ہول میں گر گئے تھے۔
ڈی آئی جی نے واضح کیا کہ واقعے میں کسی کی لاپرواہی یا قصور کی تحقیق جاری ہے، اور اہل خانہ کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے واقعہ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ہائی لیول انکوائری کمیٹی قائم کی ہے اور 24 گھنٹوں میں رپورٹ طلب کی ہے، جبکہ کچھ افسران کو نااہلی اور غفلت پر معطل بھی کیا گیا ہے۔
حکام نے کہا ہے کہ جس کی بھی غفلت ثابت ہوئی، اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
