محسن نقوی کے سامنے میرٹ بے بس، راجہ رفعت مختار کی چھٹی
فیچر اسٹوریز

محسن نقوی کے سامنے میرٹ بے بس، راجہ رفعت مختار کی چھٹی

03 Feb 2026 1,530

رپورٹ: راؤ محمد جمیل

بہترین کار کردگی اور میرٹ کو مقدم رکھتے ہوئے بے خوف خدمات سرانجام دینے کے حوالے سے شہرت کے حامل راجہ رفعت مختار کو وفاقی حکومت برداشت نہ کرسکی۔

پاکستان کی طاقتور شخصیت وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے بعض احکامات کی تکمیل سے گریز کرنے پر راجہ رفعت مختار کو ڈی جی ایف آئی اے کے عہدے سے ہٹایا گیا جبکہ انتہائی متنازعہ شخصیت کے طور پر شناخت رکھنے والے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کو وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے بعض اختلافات کے باعث ہٹانے کے بعد وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کی ذاتی کاوش کے باعث ڈی جی ایف آئی اے تعینات کیا گیا۔

راجہ رفعت مختار کا ماضی گواه ہے که وه بطور آئی جی سندھ اور موٹروے پولیس سمیت دیگر اداروں میں ناصرف میرٹ پر خدمات سرانجام دیتے رہے جبکہ اداروں میں ناقابل فراموش اصلاحات اور کڑے احتساب کے ساتھ ساتھ اداروں کی عزت اور وقار میں اضافے کا سبب بھی قرار دئیے جاتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق راجہ رفعت مختار نے بطور ڈی جی ایف آئی اے تعیناتی کے ساتھ ہی اپنی ماضی کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اصولوں پر مبنی فیصلے کیے اس دوران کئی اہم عہدوں پر  تعینات مشتبہ کارکردگی کے حامل افسران کو انصاف اور احتساب کے  کٹہرے میں کھڑا کیا گیا تو دوسری جانب اچھی کارکردگی کے حامل افسران کی حوصلہ افزائی بھی کی گئی۔

ذرائع کے  ماضی میں مطابق بطور آئی جی سندھ تعیناتی کے دوران بھی انھوں نے اصول پر سمجھوتے سے گریز کیا جسکی وجہ سے سائیں سرکار سے انکے تعلقات خوشگوار نہیں رہے ذرائع کے مطابق بطور آئی جی سندھ تعیناتی کے دوران انھوں نے محکمہ پولیس کے مورال کی بلندی پولیس اصلاحات اور عام پولیس افسران اور اہلکاروں کیلئے انتہائی اہم خدمات سرانجام دے کر انکے دل جیت لئے۔

آج بھی سندھ پولیس کے عام افسران اور اہلکار انہیں دل کی گہرائیوں سے یاد کرتے ہیں بلکہ انکی کمی بھی شدت سے مخصوص کی جاتی ہے ذرائع کے مطابق راجہ رفعت مختار نے بطور ڈی جی ایف آئی اے تعیناتی کے ساتھ ہی اپنی ماضی کی روش تبدیل نہیں کی اور بعض با اثر سیاسی اور اہم شخصیات کے ایماء پر میرٹ اور انصاف کو پاؤں تلے روندنے سے انکار کیا جس سے قوی امکان پیدا ہوگیا تھا کہ وہ زیاده عرصہ بطور ڈی جی ایف آئی اے خدمات سرانجام دینے سے قاصر رہیں گئے۔

ذرائع  کے مطابق حالیہ ایام میں راجہ رفعت مختار اور پاکستان کی طاقتور شخصیت وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے بعض معاملات پر ہونے اختلافات شدت اختیار کرگئے جسکے باعث اچانک انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا جبکہ پنجاب پولیس کے انتہائی متنازعہ سمجھے جانے والے آئی جی ڈاکٹر عثمان انور کو ڈی جی ایف آئی اے تعینات کردیا گیا۔

ڈاکٹر عثمان انور نے بطور آئی جی پنجاب تعیناتی کے دوران کئی اہم اور اعلیٰ شخصیات کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے گرانقدر خدمات سرانجام دیں انکی مقبولیت پولیس اور عوام کی بجائے ایوانوں میں فتح حاصل کرتی رہی ذرائع کے مطابق حالیہ ایام میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے بھی ڈاکٹر عثمان انور سے بعض معاملات سے اختلاف ہوگئے جس پر مریم نواز کی جانب سے انہیں تبدیل کرنے کا عندیہ دے دیا گیا۔

تاہم وزیر اعظم پاکستان نے انہیں ڈی جی ایف آئی  اے تعینات کرکے ایک جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی خواہشات کا احترام کیا تو دوسرے جانب  اعلیٰ سیاسی شخصیات کے مفادات کو پایہ تکمیل تک پہنچانے اور انکی خواہشات کے احترام کے صلے میں انکی خدمات کا صلہ بھی ڈاکٹر عثمان انور کو عنایت فرمایا۔

دریں اثناء ایک ٹھنڈے مزاج کے پولیس افسر راؤ عبدالکریم کو آئی جی پنجاب تعینات کیا گیا ہے ذرائع کے مطابق راؤ عبدالکریم کا آبائی تعلق سندھ کے شہر نواب شاہ سے بتایا جاتا ہے وہ سابق آئی جی عبدالرحیم کے صاحبزادے ہیں اور اچھی شہرت کے حامل بتائے جاتے ہیں تاہم انکے ماضی کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں ڈاکٹر عثمان انور کا متبادل ثابت نہیں ہونگے۔

اگر ان پر میرٹ کے خلاف ذاتی خواہشات کی تکمیل کیلئے سیاسی دباؤ ڈالا گیا تو وہ انصاف کو روند نے کی بجائے عہده قربان کرنے کو ترجیحی دینگے تاہم انکی انصاف پسندی اور میرٹ کے خلاف سیاسی دباؤ برداشت کرنے یا مسترد کرنے کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا