احتساب سخت، میرٹ بحال ہوگا، نئے پولیس چیف کا پرانا اعلان
فیچر اسٹوریز

احتساب سخت، میرٹ بحال ہوگا، نئے پولیس چیف کا پرانا اعلان

11 Feb 2026 4,704

رپورٹ: راؤ محمد جمیل 

انتہائی دیانت دار اور ہر قسم کے دباؤ کو پاؤں تلے روندتے ہوئے میرٹ پر ذمہ داریاں ادا کرنے کے حوالے سے  شہرت کے حامل پولیس افسر آزاد خان تنولی نے ماضی کی یادیں تازه کردیں شہر قائد کے تھانوں تعینات  شہریوں کو فراہی انصاف  اورامن و امان کے قیام میں ناکام ، منفی کارگردگی پر ایس ایچ اوز ، ایس آئی اوز اور اعلیٰ پولیس افسران و اہلکاروں کے خلاف کڑے احتساب کا فیصلہ کرلیا گیا۔

آئندہ چند ایام میں ایس ایچ اوز اور دیگر پولیس افسران کی تعیناتی ” ٹینڈرز “سیاسی آشیر باد اور اثر و رسوخ کی بجائے میرٹ پر ہوگی مقامی اور اچھی کارکردگی کے حامل پولیس افسران کی تعیناتی یقینی بنائی جائے گی۔

پولیس کے مورال عزت وقار کا سودا کرنے والے ،ناانصافی کے حامل اور جرائم کی سرپرستی اور سہولت کاری میں ملوث ایس ایچ اوز اور پولیس افسران کے خلاف سخت کاروائی کا عندیہ دے دیا  گیا۔

تفصیلات کے مطابق شہر قائد کے ایڈیشنل آئی جی اور ماضی کے لاجواب کارکردگی اور میرٹ پر فیصلے کرنے کے حوالے سے شہرت کے حامل پولیس افسر  آزاد خان تنولی نے محکمہ پولیس کی تباہ حال ساکھ اور مسلسل گر تے ہوئے مورال کو مدنظر رکھتے ہوئے انقلابی اقدامات کا فیصلہ کرلیا ایس ایچ اوز سمیت دیگر پولیس افسران اور اہلکاروں کی تعیناتی کو انتہائی شفاف بنانے کا عندیہ بھی دے دیا۔

صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان تنولی نے اقرار کیا کہ  شہر بھر میں طاقتور سسٹم کی موجودگی، مافیا، سیاسی دباؤ اور مالی مفادات کا خاتمہ  بڑا چیلنج ہے انکا کہنا تھا کہ ہرادارے میں اچھے اور برے لوگ موجود ہیں، انھوں نے اس کڑوے سچ کا بھی اعتراف کیا کہ چھوٹے پولیس افسران تو کیا بڑے افسران بھی جرائم کی  پشت پناہی اور سہولت کاری میں ملوث ہیں۔

انھوں نے کہا کہ کراچی کے کسی بھی تھانے میں بطور ایس ایچ او تعیناتی کیلئے لازم ہوگا کہ مذکوره پولیس افسر کم ازکم ایک سال تک کراچی میں سکونت اختیارکرچکا ہو، انھوں نے واضح کیا کہ وہ اپنی ذاتی پسند اور ناپسند یا ذاتی مراسم کے حامل ایک بھی پولیس افسر کو بطورایس ایچ او تعینات نہیں کرینگے، ایس ایچ اوز کی تعیناتی کا اختیار متعلقہ ایس ایس پیز کا ہوگا تاہم ایس ایچ اوز کی کارکردگی کے حوالے سے ایس ایس پیز سے جواب طلب کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ ملزمان کے حوالے سے کم سزا کی شرح اس بات کا ثبوت ہے کہ پولیس، پراسیکیوشن اورعدالتی نظام کے درمیان خلا موجود ہے،شہر میں منشیات کی لعنت تیزی سے پھیل رہی ہے، جو بڑھتے ہوئے جرائم کا سبب بھی ہے منشیات کے پھیلاؤ  کو روکنا بھی  پولیس کیلئے اہم اوربڑا چیلنج ہے، شعبہ تفتیش سے وابستہ پولیس افسران کی تربیت، استعداد کاراورپیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتربنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انھوں نے دلیرانہ انداز میں اقرار کیا کہآرگنائزڈ کرائم پولیس کی سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں، محکمہ پولیس میں احتساب کو یقینی بنایا جائے گا اور اچھی کارکردگی کے حامل پولیس افسر کو انکے معیار کے مطابق منصفانه طور پر اہم اور اچھی جگہ تعینات کیا جائے گا۔

ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان تنولی ماضی میں کراچی سمیت ملک کے دیگر شہروں میں خدمات سرانجام دے چکے ہیں اور انہیں اصول پرست اور فراہمی انصاف کے حوالے سے شہری ایک مسیحا قرار دیتے ہیں۔

سابق آئی جی سندھ غلام نبی میمن بھی اچھے ماضی کے باوجود بطور ایڈیشنل آئی جی کراچی اور آئی جی سندھ تعیناتی کے دوران پولیس میں اصلاحات اور شہریوں کی امیدوں کو قتل کرکے محکمہ پولیس کے مورال کو تباہی کے دہانے تک پہنچانے کے ذمہ دار قرار دئیے جاتے ہیں عام پولیس افسران ، اہلکار اور شہری غلام نبی میمن کو ایک ناکام ترین اور سیاسی پولیس افسر قرار دیتے ہیں۔

سابق آئی جی سندھ غلام نبی میمن پر الزام ہے که انھوں نے ذاتی مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایس ایچ اوز سمیت دیگر افسران کی تعیناتی کے حوالے سے انتہائی غیر شفاف اور میرٹ کو پاؤں تلے روندتے ہوئے سیاسی فیصلے کئے دیانت دار ، اچھی شہرت اور بہترین کارکردگی کے حامل پولیس افسران کو نظر انداز کرکے سیاسی پنڈتوں کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے جرائم میں ملوث ، بدکردار اور نااہل افسران کو نوازا گیا جسکی وجہ سے رشوت اور ناانصافی  کا  زہر ایس ایچ اوز سے ترقی کر کے بعض ایسی ایس پیز اور ڈی آئی جیز کی دہلیز تک منتقل ہوگیا۔

تاہم موجود آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو اور انکے انتہائی قریب سمجھے جانے والے ایڈیشنل آئی جی کراچی کو عام پولیس افسران، اہلکار اور شہری تاریکی میں روشنی کی کرن قرار دے رہے ہیں۔

تاہم سیاسی پنڈت اور طاقتور سیاسی مافیاز کو روند کر وہ محکمہ پولیس کی عزت وقار اور مورال کی بلندی کیلئے  میرٹ پر سخت فیصلوں پر عمل درآمد میں سرخرو ہو  سکیں گئے یا سابق آئی جی سندھ غلام نبی میمن کی طرح انکو سیاسی رسیوں سے جکڑ دیا جائے گا اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا