پہلے پی ٹی وی اور اب پرائیویٹ چینلز بھی کیسے غیر متعلقہ ہوگئے
تحریر۔ شعیب واجد
دس،پندرہ سال پہلے ہم کہتے تھے کہ ‘پی ٹی وی’ تقریباً غیر متعلقہ ہو چکا ہے، کیونکہ اس میں ویورز، سوائے قصیدہ گوئی کے کچھ خاص نہیں پاتے تھے، اور خبروں کے لیے پرائیویٹ چینلز کا رخ کرتے تھے۔
لیکن کسے معلوم تھا کہ اس ملک میں اتنا بڑا ‘انقلاب’ بھی آئے گا کہ لگ بھگ 40 کے قریب پرائیویٹ چینلز ہی ‘ارریلیونٹ’ ہوجائیں گے۔
اُس دور میں، سوائے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے، باقی تمام سیاسی جماعتوں کی خبریں آزادی سے چلائی جاتی تھیں۔ البتہ ایم کیو ایم کے حوالے سے خاص ہدایات ہوتی تھیں کہ ان کی ہر خبر، بنا ایڈٹ، پوری چلائی جائے، ہر ایونٹ لائیو دکھایا جائے، چاہے اس کے نتیجے میں بلیٹنز کے کشتوں کے پشتے ہی کیوں نہ لگ جائیں۔۔
ان ہدایات کی کیا وجوہات ہوتی تھیں یہ بھی کبھی کوئی راز نہیں رہا۔۔
خیر وہ بات پرانی ہوئی۔۔ایم کیو ایم کا جو کردار تھا، آج وہ کسی اور نے اٹھا لیا ہے۔۔
بات ہو رہی تھی پرائیویٹ چینلز کے غیر متعلقہ ہو جانے کی۔ یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ ایک طرف معاشی صورتحال نے چینلز کی کمر توڑ دی ہے، اور دوسری طرف عوام کی عدم دلچسپی نے چینلز کی ریٹنگ کی دوڑ کو بھی تباہ کر دیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ صحافتی حلقوں میں چینلز کی ریٹنگ کی دوڑ کو کبھی بھی اچھا نہیں سمجھا گیا۔ مگر آج پرائیویٹ میڈیا ایک ایسے نئے دور میں داخل ہو چکا ہے جہاں تمام چینلز مل کر ایک ہی بیانیہ دہرا رہے ہیں،اور کسی چینل کی ایسی انفرادیت باقی نہیں بچی کہ جس کے بنا پر وہ اپنی الگ پہچان منوا سکے۔
اس صورتحال کی وجہ سے عوام شدید بور ہو چکے ہیں۔۔اور اب وہ اپنے ٹی وی پر نیوزچینلز دیکھنا کم ہی پسند کرتے ہیں۔۔
شاید حقیقت بھی یہی ہے کہ عوام کی اکثریت خبریں حاصل کرنے کے لیے سوشل میڈیا کی طرف رجوع کرتی ہے۔
یہ صورتحال پرائیویٹ چینلز کو ‘پی ٹی وی’ بنانے والوں کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے۔۔ کیونکہ وہ اپنا بیانیہ دکھانے کے لیے ‘آڈینس’ کھو چکے ہیں ۔
چنانچہ وہی باتیں جو کبھی آزاد الیکٹرانک میڈیا پر قدغن لگانے کے لیے کی جاتی تھیں، اب سوشل میڈیا کے خلاف بھی سنائی دینے لگی ہیں۔
بلاشبہ سوشل میڈیا پر جعلی، جھوٹی اور اے آئی جنریٹڈ خبروں کی بھرمار ہے، لیکن جو صارف خبر کی تلاش میں ہوتا ہے وہ ‘خبر’ بہرحال پا ہی لیتا ہے۔
ہم نے آزاد الیکٹرانک میڈیا کو ‘پی ٹی وی’ بنتے دیکھا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ ‘بیانیہ سازی’ کے لیے آگے کیا نئے طریقے ازمائے جاتے ہیں۔۔
