منوج باجپائی کی فلم کے ٹیزر پر ہندو انتہا پسندوں نے طوفان کھڑا کر دیا
شوبز

منوج باجپائی کی فلم کے ٹیزر پر ہندو انتہا پسندوں نے طوفان کھڑا کر دیا

05 Feb 2026 6,530

نیٹ فلکس انڈیا کی آنے والی فلم کے ٹیزر نے ریلیز ہوتے ہی وہ بحث چھیڑ دی ہے جو بھارت میں اکثر فن، فکر اور آزادیٔ اظہار کو گھیر لیتی ہے۔

منوج باجپائی کی نئی فلم ’’گھوس خور پنڈت‘‘ کا ٹیزر منظرِ عام پر آتے ہی چند گھنٹوں میں سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہو گیا—اور اس بار تنقید کی قیادت ہندو انتہا پسند حلقوں کی جانب سے سامنے آئی۔

ممبئی میں ایک تقریب کے دوران دکھائے گئے ٹیزر میں منوج باجپائی ایک بدعنوان پولیس افسر کے کردار میں نظر آتے ہیں، جس کا اصل نام اجے ڈکشت ہے مگر اسے عرفِ عام میں ’’پنڈت‘‘ کہا جاتا ہے۔

یہی لقب انتہا پسندوں کے لیے اشتعال کا باعث بن گیا، جنہوں نے فلم کے عنوان کو ایک مخصوص شناخت کے خلاف سازش قرار دے کر مہم چلا دی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹیزر میں کسی مذہبی یا برادری کا براہِ راست ذکر تک موجود نہیں، نہ ہی کہانی کسی عقیدے کو نشانہ بناتی ہے۔

اس کے باوجود فلم کے نام کو بنیاد بنا کر سوشل میڈیا پر وہی پرانا بیانیہ دہرایا جا رہا ہے جہاں تخلیقی اظہار کو زبردستی مذہبی رنگ دے کر دباؤ میں لانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ردِعمل دراصل بدعنوانی جیسے حساس موضوع سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے، کیونکہ فلم ایک فرد کے کردار اور نظامی خرابی پر سوال اٹھاتی ہے، نہ کہ کسی مذہب یا برادری پر۔ سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے سوال اٹھایا کہ اگر ایک فرضی کردار کا نام بھی تنقید سے بالا نہیں تو پھر بھارت میں فنکاروں کے لیے آزادی کی گنجائش کہاں باقی رہ جاتی ہے؟