مذاکرات پر تیار، طاقت کی زبان قبول نہیں، گھٹنے ٹیکیں گے نہ جوہری حق سے پیچھے ہٹیں گے؛ ایران
نیویارک میں جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے مسعود پزیشکیان نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام خود دہشت گردی کے شکار رہے ہیں۔
صدر پزیشکیان نے ایران کے سپریم لیڈر کی شہادت اور منیاب کے پرائمری گرلز اسکول پر امریکی حملے کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے سپریم لیڈر کو بغیر کسی قانونی جواز کے قتل کیا گیا جبکہ جنگ کے پہلے ہی روز اسکول کی درجنوں کو طالبات کو شہید کیا گیا۔
ایرانی صدر نے کہا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا تاہم پرامن جوہری ٹیکنالوجی اس کا فطری حق ہے۔
صدر پزیشکیان نے کہا کہ ایران نہ جوہری ہتھیار چاہتا ہے اور نہ ہی پرامن جوہری ٹیکنالوجی کے اپنے حق سے دستبردار ہوگا۔
انھوں نے بار بار ایران کے جوہری پروگرام کی انسپیکشن پر کہا کہ اسرائیل کی جوہری تنصیبات کا معائنہ کیوں نہیں کیا جاتا حالانکہ اسرائیل جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے کا رکن نہیں ہے۔
ایرانی صدر نے فلسطین اور غزہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین عالمی برادری کے ضمیر پر ایک کھلا زخم ہے جبکہ غزہ شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں عالمی اداروں کی ناکامی کی علامت بن چکا ہے۔
صدر مسعود پزیشکیان نے کہا کہ جب تک قبضہ، جارحیت اور ناانصافی جاری رہے گی، مزاحمت بھی جاری رہے گی۔ بمباری اور محاصرے کے ذریعے مزاحمت کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔
تقریر کے اختتام پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے مسعود پزیشکیان نے کہا کہ پابندیوں، دباؤ اور دھمکیوں سے ایرانی عوام کی مزاحمت مزید بڑھے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران مذاکرات اور بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم طاقت کی زبان قبول نہیں کرے گا۔
ایرانی صدر نے واضح کیا کہ ایران اپنے دفاع کے لیے کسی کی اجازت یا منظوری کا منتظر نہیں ہوگا اور کہا کہ ایرانی عوام کبھی سر نہیں جھکائیں گے اور گھٹنے نہیں ٹیکیں گے۔
