سابق ڈی جی آئی ایس آئی کو سزا کیوں ملی؟
فیچر اسٹوریز

سابق ڈی جی آئی ایس آئی کو سزا کیوں ملی؟

12 Dec 2025 2,409

ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اگست 2024 سے حراست میں ہیں۔ فوج نے 12 اگست کو ان کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ان پر آرمی ایکٹ کی خلاف ورزی اور غلط رویے کے الزامات کی بنیاد پر مقدمہ بنایا گیا، جو ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک کی شکایت پر مبنی تھا۔

یہ مقدمہ نومبر 2023 میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سامنے آیا، جس میں درخواست گزار اسلام آباد کے ٹاپ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک معیز احمد خان کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ اپنی شکایات بشمول وزارت دفاع مناسب چینلز کے ذریعے پیش کریں۔

معیز خان نے الزام لگایا تھا کہ 12 مئی 2017 کو ان کی پراپرٹی پر پاکستان رینجرز اور آئی ایس آئی اہلکاروں کے ذریعہ چھاپہ مارا گیا، جس میں سونا، ہیرے اور نقدی جیسے قیمتی سامان قبضے میں لے لیے گئے، چھاپے کے لیے انسداد دہشت گردی کے آپریشن کا بہانہ بنایا گیا۔

معیز خان نے درخواست میں کہا تھا کہ آئی ایس آئی کے ریٹائرڈ بریگیڈیئر نعیم فخر اور ریٹائرڈ بریگیڈیئر غفار نے مبینہ طور پر درخواست گزار کو 4 کروڑ نقد ادا کرنے اور کچھ مہینوں کے لیے ایک نجی چینل ’آپ ٹی وی نیٹ ورک‘ کو اسپانسر کرنے پر مجبور کیا۔

درخواست کے مطابق آئی ایس آئی کے سابق عہدیدار ارتضیٰ ہارون، سردار نجف، وسیم تابش، زاہد محمود ملک اور محمد منیر بھی ہاؤسنگ سوسائٹی کے غیر قانونی قبضے میں ملوث تھے۔

جس پر سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق ٹاپ سٹی پر قبضے کے لیے ان کو اور اہل خانہ کو اغواء کیا گیا، جنرل (ر) فیض حمید پر رینجرز اور آئی ایس آئی حکام کے ذریعے درخواست گزار کے آفس اور گھر پر چھاپے کا الزام ہے۔ عدالت عظمیٰ نے فیصلے میں لکھا کہ جنرل (ر) فیض حمید پر درخواست گزار کے گھر کا سامان اور سوسائٹی کا ریکارڈ چوری کرنے کا بھی الزام ہے، الزامات سنجیدہ ہیں، انہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

یہ مقدمہ پاکستان آرمی کی تاریخ کے سب سے نمایاں کورٹ مارشل کیسز میں سے ایک ہے، کیونکہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید دوسرے تھری اسٹار جنرل اور پہلے سابق آئی ایس آئی چیف ہیں جو اس طرح کی کارروائی کا سامنا کر رہے ہیں۔

فوجی قوانین کے مطابق، مقدمے کی بنیاد کے لیے پہلے کورٹ آف انکوائری اور شواہد کا خلاصہ تیار کیا جاتا ہے، جس کے بعد فرد جرم عائد کی جاتی ہے۔ انڈکٹمنٹ کے بعد، ملزم کو قانونی نمائندگی کا حق حاصل ہے اور آئی ایس پی آر کے مطابق، لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو تمام قانونی حقوق فراہم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے اپنے دفاع کے لیے وکیل میاں علی اشفاق کا انتخاب کیا تھا۔

فیض حمید کون ہیں؟

لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) فیض حمید کو سابق وزیراعظم عمران خان کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا تھا، کیونکہ عمران خان نے اپنے دور حکومت میں انہیں آئی ایس آئی کا سربراہ مقرر کیا تھا۔ آئی ایس آئی کے سربراہ کو عموماً پاکستان میں فوج کے سربراہ کے بعد دوسرا سب سے طاقتور افسر تصور کیا جاتا ہے۔

فیض حمید نے اپنے کیریئر کے دوران مختلف اہم عہدوں پر خدمات انجام دی ہیں۔ بہاولپور کور کمانڈر کے تقرر سے پہلے وہ پشاور میں اسی عہدے پر فائز تھے۔

پچھلے دہائی میں وہ پاکستان کی سیاسی منظرنامے پر متنازع شخصیت کے طور پر سامنے آئے۔ انہوں نے عوام کی توجہ پہلی بار نومبر 2017 میں حاصل کی، جب انہوں نے تحریک لبیک پاکستان کے زیر قیادت فیض آباد دھرنے کے خاتمے میں ایک اہم کردار ادا کیا اور اس کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا۔

اس واقعے کے بعد فروری 2019 میں سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے آئی ایس آئی اور انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کو ہدایت دی کہ وہ اپنے دائرہ کار کے اندر رہ کر کام کریں۔

فیض حمید 2019 سے 2021 تک آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل رہے اور عالمی سطح پر ان کو توجہ اس وقت ملی جب وہ عین طالبان کے اقتدار سنبھالنے اور امریکی و دیگر مغربی افواج کے انخلاء کے بعد۔کابل کے ایک ہوٹل کے لابی میں چائے پیتے ہوئے فلمائے گئے۔

فیض حمید کی بطور آئی ایس آئی چیف تعیناتی اس وقت ہوئی جب اس وقت کے آئی ایس آئی چیف اور موجودہ فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کو اچانک ہٹا دیا گیا تھا۔

بعض رپورٹس کے مطابق عمران خان چاہتے تھے کہ فیض حمید جنرل قمر جاوید باجوہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد نومبر 2022 میں اگلے فوجی سربراہ مقرر ہوں۔ وہ ان چھ جنرلز میں شامل تھے جن کے نام جی ایچ کیو نے وزیراعظم شہباز شریف کو آرمی چیف کے لیے بھیجے تھے۔