امریکا کا دباؤ، ایران کی للکار، جوہری مذاکرات میزائل تنازع میں الجھ گئے
امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات سے قبل ہی شدید اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں، جہاں واشنگٹن نے جوہری معاملے سے آگے بڑھ کر ایران کے میزائل پروگرام اور علاقائی سرگرمیوں کو بھی ایجنڈے میں شامل کرنے پر زور دے دیا، جبکہ تہران نے دوٹوک اعلان کر دیا ہے کہ میزائل پروگرام پر کوئی بات نہیں ہوگی۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا ہے کہ اگر ایران مذاکرات چاہتا ہے تو امریکا تیار ہے، تاہم بات چیت صرف جوہری پروگرام تک محدود نہیں رہ سکتی۔
ان کے مطابق ایران کے بیلسٹک میزائل، مشرق وسطیٰ میں مختلف گروہوں کی حمایت اور ایرانی عوام کے ساتھ حکومتی رویے جیسے معاملات بھی مذاکرات کا حصہ ہوں گے۔
دوسری جانب ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے امریکی مؤقف مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات صرف ایران کے جوہری پروگرام پر ہوں گے، جبکہ میزائل پروگرام آف دی ٹیبل اور ایران کی ریڈ لائن ہے۔
ممکنہ فوجی تصادم کے خدشات کے سائے میں ہونے والے یہ مذاکرات جمعہ کو متوقع ہیں۔ مذاکرات کا مقام پہلے ترکی طے پایا تھا، تاہم اب سفارتی ذرائع اور ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت عمان میں ہونے کا امکان ہے، جبکہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مقام سے متعلق مشاورت ابھی جاری ہے۔
