پاکستان کو دشمن بنا کر رکھنے کی حکمتِ عملی بے اثر ثابت ہوئی، ششی تھرور کا اعتراف
بھارت کے سینئر سیاستدان اور رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے پاکستان کے حوالے سے نئی دہلی کی روایتی پالیسی پر کھل کر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلسل مخاصمت کا راستہ اختیار کرنا سودمند ثابت نہیں ہوا اور اس طرزِ فکر نے خطے میں استحکام کے امکانات کو مزید کمزور کیا ہے۔
انڈین ایکسپریس میں شائع اپنے تازہ کالم میں تھرور نے لکھا کہ پاکستان کو دائمی حریف بنا کر پیش کرنے کی سوچ کو داخلی سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا، لیکن زمینی حقائق میں اس پالیسی سے کوئی ٹھوس کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔
ان کے مطابق مذاکرات کو کمزوری سمجھنا ایک غلط بیانیہ ہے، جبکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن صرف بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی جارحانہ اور سخت گیر حکمت عملی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ تصادم پر مبنی رویہ نہ صرف علاقائی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ اس سے بھارت کی سفارتی ساکھ بھی متاثر ہوئی ہے۔
ششی تھرور کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوششیں بھی خاطر خواہ نتائج نہ دے سکیں اور یہ حکمت عملی حقیقت پسندی سے زیادہ سیاسی نعرہ بازی ثابت ہوئی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق بھارت کے اندر ایک ایسا حلقہ مضبوط ہو رہا ہے جو کشیدگی کے بجائے مکالمے کو ترجیح دینے کا حامی ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ تھرور کا بیان اس بات کی علامت ہے کہ بھارتی سیاست میں پاکستان مخالف بیانیے پر اب سنجیدہ سوالات اٹھنے لگے ہیں، جو مستقبل میں پالیسی مباحث کا رخ بدل سکتے ہیں۔
