جنگ بندی کی پیشکش قبول مگر ہتھیار نہیں ڈالیں گے، حماس کا دوٹوک مؤقف
حماس کی اعلیٰ قیادت نے غزہ میں غیرمسلح ہونے کے مطالبات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح پیغام دیا ہے کہ مزاحمت ختم کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
الجزیرہ فورم سے خطاب کرتے ہوئے حماس کے بیرونِ ملک سیاسی امور کے سربراہ خالد مشعل نے کہا کہ فلسطینیوں سے اسلحہ چھیننے کی کوشش دراصل انہیں کمزور اور بے دفاع بنانے کی حکمت عملی ہے۔
خالد مشعل کا کہنا تھا کہ جب تک فلسطینی سرزمین پر قبضہ برقرار ہے، اس وقت تک مزاحمت کا حق بھی برقرار رہے گا۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ غیرمسلح کرنے کی باتیں درحقیقت اسرائیل کو کھلی چھوٹ دینے کے مترادف ہیں، جو جدید ہتھیاروں سے لیس ہے۔ ان کے مطابق یہ مطالبہ فلسطینیوں کو آسان ہدف بنانے کی ایک منظم کوشش ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ حماس نے 5 سے 10 سالہ جنگ بندی کی تجویز پیش کی تھی جس کے تحت اسلحہ استعمال نہ کرنے کی ضمانت دی جا سکتی ہے، بشرطیکہ تعمیرِ نو، انسانی امداد اور امن کی واضح ضمانت فراہم کی جائے۔
مشعل نے کہا کہ قطر، ترکیہ اور مصر جیسے ثالث ممالک اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
حماس رہنما نے زور دیا کہ مسئلہ کسی ایک گروہ کا نہیں بلکہ اسرائیلی پالیسیوں کا ہے جو خطے میں عدم استحکام کو ہوا دیتی ہیں۔ انہوں نے عرب اور مسلم ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ محض دفاعی بیانات تک محدود نہ رہیں بلکہ مؤثر سفارتی حکمت عملی اپنائیں۔
