بدلہ یا برتری؟ آج امریکا سے ٹکراؤ، گرین شرٹس کے لیے سنہرا موقع یا نیا امتحان
ٹی 20 ورلڈکپ میں پاکستان آج سنہالیز اسپورٹس کلب کولمبو میں امریکا کے خلاف اپنا دوسرا میچ کھیلے گا۔ گرین شرٹس کی نظریں ایک طرف دو برس قبل ہونے والی حیران کن شکست کا حساب چکتا کرنے پر ہیں تو دوسری جانب گروپ میں اپنی پوزیشن مستحکم بنانے کے لیے قیمتی دو پوائنٹس حاصل کرنا اولین ہدف ہوگا۔
پاکستان نے ایونٹ کے پہلے میچ میں نیدرلینڈز کو شکست تو دی، مگر ڈچ ٹیم نے سخت مقابلہ کر کے خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی۔ فہیم اشرف نے اختتامی اوورز میں ذمہ داری نبھا کر ٹیم کو کامیابی دلائی۔
دوسری جانب امریکا نے بھی بھارت کے خلاف زبردست مزاحمت دکھا کر سب کو چونکا دیا تھا، اگرچہ سوریا کمار یادیو نے میزبان ٹیم کو شکست سے بچا لیا۔
یاد رہے کہ گزشتہ ٹی 20 ورلڈکپ میں امریکا کے ہاتھوں شکست پاکستان کے پہلے راؤنڈ سے اخراج کا سبب بنی تھی، اس بار ٹیم کسی بھی قسم کی لاپروائی سے گریز کرتے ہوئے محتاط حکمت عملی اپنائے گی۔
کولمبو میں ممکنہ بارش اور ڈی ایل میتھڈ کے خدشے کے پیش نظر تیز رفتار بیٹنگ اور پاور پلے سے بھرپور فائدہ اٹھانا ناگزیر ہوگا۔
ٹاپ آرڈر کو جارحانہ آغاز فراہم کرنا ہوگا، جبکہ بابر اعظم کی فارم ایک بار پھر زیر بحث ہے، تاہم ان کی جگہ فوری طور پر خطرے میں نہیں۔ عثمان خان کی جگہ خواجہ نافع کو موقع دینے کا امکان موجود ہے۔
موزوں کنڈیشنز پاکستانی اسپنرز کے لیے مددگار ثابت ہو سکتی ہیں جبکہ شاہین آفریدی ابر آلود موسم میں حریف پر قہر ڈھانے کو تیار ہوں گے۔
امریکی ٹیم بھارت کے خلاف عمدہ کارکردگی کے بعد پُرعزم ہے اور ایک اور اپ سیٹ کا خواب دیکھ رہی ہے، تاہم پاکستانی نژاد فاسٹ بولر علی خان کی انجری ان کے لیے دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔
کپتان مونانک پٹیل کو امریکا کی جانب سے ٹی 20 انٹرنیشنل میں ایک ہزار رنز مکمل کرنے کے لیے مزید 80 رنز درکار ہیں۔
کولمبو میں مختصر فارمیٹ میں پاکستان کا ریکارڈ حوصلہ افزا ہے، جہاں آٹھ میچز میں چھ فتوحات حاصل کی جا چکی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا گرین شرٹس پرانی تلخ یادوں کو دفن کر کے میدان میں اپنی برتری ثابت کر پاتے ہیں یا امریکا ایک اور سرپرائز دینے میں کامیاب ہوتا ہے
