غزہ میں تھرموبیرک بموں کے استعمال کا دعویٰ، ہزاروں فلسطینی لاپتا ہونے کا انکشاف
خلیجی ذرائع ابلاغ میں شائع رپورٹس کے مطابق غزہ میں نہایت تباہ کن تھرموبیرک بموں کے مبینہ استعمال کا انکشاف سامنے آیا ہے، جن کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ان کی شدید حرارت نے تقریباً 3 ہزار فلسطینیوں کو اس طرح نشانہ بنایا کہ ان کے جسمانی آثار تک باقی نہ رہے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ تھرموبیرک ہتھیار انتہائی بلند درجہ حرارت تقریباً 3,500 ڈگری سینٹی گریڈ پیدا کرتے ہیں، جس سے دھماکے کے مقام پر ہر شے فوری طور پر جل کر خاک ہو سکتی ہے۔ متاثرہ علاقوں میں صرف جلے ہوئے ملبے اور محدود باقیات ملنے کی اطلاعات دی گئی ہیں۔
ماہرین قانون اور انسانی حقوق کے بعض حلقوں نے ان ہتھیاروں کے استعمال کو سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ اسلحہ بیرونی طاقتوں کی جانب سے فراہم کیا گیا۔
تاہم ان الزامات پر باضابطہ عالمی تحقیقات اور غیر جانبدار تصدیق کی ضرورت پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔
