بنگلا دیش پارلیمانی انتخابات، بی این پی 151 نشستوں کے ساتھ سب سے آگے
بنگلادیش کے 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل مکمل ہو گیا ہے اور اب ووٹوں کی گنتی شروع کر دی گئی ہے۔ یہ انتخابات اس تحریک کے 18 ماہ بعد ہو رہے ہیں جس کے نتیجے میں دو دہائیوں پر محیط شیخ حسینہ کا اقتدار ختم ہوا تھا۔
غیر سرکاری نتائج کے مطابق خالدہ ضیاء کی بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) 151 نشستوں کے ساتھ سب سے آگے ہے اور ایوان میں برتری حاصل کیے ہوئے ہے۔
نتائج کے مطابق جماعتِ اسلامی 61 نشستیں جیت کر دوسری بڑی جماعت بن کر ابھری ہے، جسے سیاسی حلقوں میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
دیگر جماعتوں میں جین زی سٹیزن پارٹی ایک نشست حاصل کرنے میں کامیاب رہی، جبکہ اسلامی آندولن جماعت اور جاتیہ پارٹی نے بھی ایک، ایک نشست اپنے نام کی۔ آزاد امیدواروں نے مجموعی طور پر دو نشستیں جیت لی ہیں۔
اب تک کے غیر مصدقہ، غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج میں سابق وزیراعظم مرحومہ خالدہ ضیا کی جماعت بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی سب سے آگے ہے۔
والدہ کے حال ہی میں انتقال کے بعد بنگلادیش نیشلسٹ پارٹی کی قیادت خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان کر رہے ہیں۔
ابتدائی گنتی میں بی این پی 151 نشستوں پر برتری حاصل ہے جب کہ جماعت اسلامی 62 نشستوں پر برتری کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔
بنگلا دیش کے مختلف میڈیا سے نشستوں کے حوالے سے متضاد خبریں سامنے آ رہی ہیں، ٹائمز آف بنگلا دیش نے بی این پی اور اس کی اتحادی جماعتوں کے 212 نشستوں پر کامیابی کا دعویٰ کیا ہے جبکہ 70 جماعت اسلامی اور 6 نشستوں پر آزاد امیدواروں کی کامیابی ظاہر کی ہے۔
ڈھاکا ٹریبون نے جماعت اسلامی کی 43 نشستوں پر کامیابی کی خبر دی ہے۔
ڈھاکا سے موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق بی این پی کے مرکزی آفس کے باہر بڑی تعداد میں اب بھی کارکنوں اور ووٹرز کی بڑی تعداد موجود ہے جو گزشتہ رات سے غیر سرکاری نتائج میں پارٹی کی کامیابی کا جشن منا رہے ہیں
البتہ دیگر جماعتوں اور آزاد امیدواروں کی نشستیں یا پوزیشن ابھی تک واضح طور پر مکمل طور پر رپورٹ نہیں ہوئے ہیں۔
ڈھاکا سے موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق بی این پی کے سیکرٹری جنرل مرزا فخر الاسلام عالمگیر نے اپنی سیٹ پر کامیابی حاصل کی، جبکہ سابق وزرا صلاح الدین احمد اور امیر خسرو محمود چودھری بھی فتح یاب ہوئے۔
اس بار انتخابات میں بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور بنگلادیش جماعتِ اسلامی کی قیادت میں بنائے گئے اتحادی بلاکس کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے، کیونکہ زیادہ سے زیادہ نشستیں جیتنا ہر پارٹی کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔
بنگلادیش الیکشن کمیشن کے مطابق، اس بار ووٹوں کی گنتی میں وقت لگ سکتا ہے کیونکہ ہر پولنگ اسٹیشن پر سفید رنگ کے پارلیمانی بیلٹ کے ساتھ جولائی کے قومی چارٹر کے حوالے سے گلابی بیلٹ بھی شامل ہیں، اور امیدواروں کی تعداد بھی پہلے سے زیادہ ہے۔
ملک کے 64 اضلاع میں قائم 42,761 پولنگ اسٹیشنز پر 300 میں سے 299 پارلیمانی حلقوں میں ووٹنگ ہوئی، جبکہ خواتین کی نمائندگی کے لیے 50 مخصوص نشستیں مخصوص کی گئی ہیں۔
نومبر 2025 کے حتمی ووٹر لسٹ کے مطابق ملک میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 12 کروڑ 77 لاکھ 11 ہزار 793 ہے، جن میں مرد ووٹرز 6 کروڑ 48 لاکھ اور خواتین ووٹرز 6 کروڑ 28 لاکھ کے قریب ہیں۔
یہ پہلا موقع ہے کہ ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کی سہولت فراہم کی گئی، جس سے تقریباً ڈیڑھ کروڑ بیرون ملک مقیم محنت کش مستفید ہو رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے تمام سیاسی جماعتوں، امیدواروں، ووٹرز، مبصرین اور اسٹاف کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ایک آزاد اور غیرجانبدار انتخابی ماحول قائم رکھنے میں تعاون کیا۔
بنگلادیش کی پارلیمنٹ، جسے جاتیا سنگسد کہا جاتا ہے، صرف ایک ایوان پر مشتمل ہے اور اس کے مجموعی 350 ارکان میں سے 300 براہِ راست انتخاب کے ذریعے اور 50 خواتین کے لیے مخصوص نشستوں پر مشتمل ہے۔
