ٹی 20 ورلڈ کپ میں ناقص کارکردگی، ہر کھلاڑی پر 50 لاکھ روپے کا جرمانہ
کھیل

ٹی 20 ورلڈ کپ میں ناقص کارکردگی، ہر کھلاڑی پر 50 لاکھ روپے کا جرمانہ

02 Mar 2026 6,481

کراچی: ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پاکستان کرکٹرز کی ناقص کارکردگی نے نہ صرف شائقین کو مایوس کیا بلکہ کھلاڑیوں کی جیب پر بھی بھاری پڑ گیا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) نے ہر کھلاڑی پر 50–50 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کر دیا، جس کا فیصلہ بھارت کے خلاف شکست کے بعد کیا گیا۔

حکام نے واضح کر دیا ہے کہ اب “لاڈ پیار” کا دور ختم ہو گیا ہے اور مالی فوائد صرف عمدہ کارکردگی کے بدلے ملیں گے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان ٹیم نے ابتدائی میچ میں نیدرلینڈز سے بال بال بچاؤ کیا، امریکا کو ہرا دیا، مگر بھارت کے خلاف توقع کے مطابق کھیل پیش نہ کر سکی۔

نمیبیا کو زیر کرکے ٹیم سپر8 میں تو پہنچی، لیکن نیوزی لینڈ کے میچ کی بارش کی نذر ہونے اور انگلینڈ کے خلاف شکست کی وجہ سے سیمی فائنل کی راہ مشکل ہو گئی۔ سری لنکا کے خلاف بمشکل فتح نے رن ریٹ بہتر نہ کیا اور یوں گرین شرٹس کا سفر ختم ہوا۔

مالی پہلو بھی حیران کن ہے: اے کیٹیگری کے کھلاڑی 45 لاکھ ماہانہ اور 20 لاکھ 70 ہزار روپے ICC شیئر، بی کیٹیگری 30 لاکھ ماہانہ اور 15 لاکھ 52 ہزار 500، سی اور ڈی کیٹیگری کے کھلاڑی بھی کروڑوں کے کنٹریکٹس کے باوجود کارکردگی میں فرق نہ لا سکے۔

پی سی بی نے کھلاڑیوں کو مالی آسودگی دینے کے لیے پی ایس ایل میں آکشن ماڈل متعارف کروایا تھا، لیکن توقعات کے مطابق اسٹار کھلاڑی بھی ٹیم کی کارکردگی بہتر نہ کر سکے۔

حالیہ ورلڈکپ میں اوپنر صاحبزادہ فرحان نے 383 رنز بنا کر ٹیم کی سب سے بہترین کارکردگی دکھائی، جبکہ صائم ایوب، سلمان علی آغا، بابر اعظم اور عثمان خان 100 رنز کا ہدف بھی حاصل نہ کر سکے۔ بولرز میں صرف اسپنر عثمان طارق نے 10 وکٹیں حاصل کیں، باقی کی کارکردگی اوسط رہی۔

ٹیم مینجمنٹ پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں: کپتان سلمان علی آغا کو صرف سامنے رکھا گیا، شاداب خان فیصلوں میں شریک رہے، اور فخر زمان کو ابتدائی میچز کی پلئینگ الیون سے خارج کیا گیا، حالانکہ سری لنکا کے خلاف 200 کے اسٹرائیک ریٹ سے 84 رنز بنا کر اپنی افادیت ظاہر کی۔