8 سال تک اپنی ماں کی لاش گھر میں رکھ کر پنشن وصول کرنے والی بیٹی گرفتار
جرمنی میں ایک حیران کن اور لرزہ خیز واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک خاتون پر الزام ہے کہ اس نے اپنی والدہ کی میت کئی برس تک گھر میں چھپا کر رکھی اور اسی دوران ماہانہ پنشن وصول کرتی رہی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق معاملہ اُس وقت مشکوک بنا جب مقامی میئر کو معمر خاتون صوفی (پیدائش 1922) سے مسلسل رابطہ نہ ہونے پر شبہ ہوا۔ بتایا گیا ہے کہ میئر گزشتہ آٹھ برسوں سے ہر سال اُن کی سالگرہ پر ملاقات کی کوشش کرتے رہے، مگر بیٹی کرسٹا ہر بار کسی نہ کسی وجہ سے ملنے نہیں دیتی تھی۔
صورتحال اُس وقت سنگین ہوگئی جب 30 دسمبر 2025 کو بیٹی نے دعویٰ کیا کہ اس کی والدہ دو سال قبل چیکیا میں انتقال کر چکی ہیں۔ بیان میں تضاد محسوس ہونے پر میئر نے پراسیکیوٹر آفس سے رجوع کیا۔
پولیس نے 5 فروری کو گھر پر چھاپہ مارا تو اندر سے معمر خاتون کی بوسیدہ لاش برآمد ہوئی، جس نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا۔ پوسٹ مارٹم میں موت کی درست وجہ اور وقت کا تعین نہ ہو سکا، جبکہ قتل کے شواہد بھی نہیں ملے۔
تاہم تحقیقات کا رخ دھوکہ دہی کی جانب مڑ گیا ہے کیونکہ خاتون کی تقریباً 1500 یورو ماہانہ پنشن مسلسل وصول کی جا رہی تھی۔ پولیس کے مطابق مشتبہ بیٹی اس وقت ایک طبی کلینک میں زیر علاج ہے اور معاملے کی مکمل چھان بین جاری ہے۔
